لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے خلع، حق مہر اور نان نفقہ کے مقدمات میں تاخیر سے متعلق اہم تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے پنجاب بھر کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو چھ ماہ سے زائد پرانے فیملی مقدمات کی رپورٹ طلب کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی کی جانب سے جاری 10 صفحات پر مشتمل فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ فیملی قوانین کے تحت مقدمات کا فیصلہ چھ ماہ کے اندر کرنا لازمی ہے، جبکہ جو جج طلاق، خلع اور دیگر فیملی مقدمات مقررہ مدت میں نمٹانے میں ناکام رہے، ان سے وجوہات طلب کی جائیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ فیملی مقدمات کو غیر ضروری التوا میں رکھنا انصاف کی فراہمی میں سنگین رکاوٹ ہے اور تاخیری حربے فیملی قانون کے بنیادی مقصد کو ناکام بناتے ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ میاں بیوی کے تنازعات اور دیگر خاندانی معاملات کو جلد از جلد نمٹانا قانون کا بنیادی تقاضا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بچے کی بازیابی میں رکاوٹ کیوں؟ سی سی پی او لاہور کو شوکاز نوٹس
فیملی عدالتیں بلاوجہ جواب داخل کرنے کے لیے بار بار تاریخیں دینے کی روایت ترک کریں اور فیملی ججز درخواستوں پر فوری سماعت کرکے حتیٰ الامکان اسی روز فیصلہ کرنے کی فعال پالیسی اپنائیں۔
عدالت نے ایک مقدمے میں تاخیری حربے استعمال کرنے پر درخواست گزار کی آئینی درخواست بھی خارج کر دی اور متعلقہ فیملی کورٹ کو حکم دیا کہ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرتے ہوئے 15 روز کے اندر فیصلہ کیا جائے۔ ساتھ ہی رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کو فیصلے پر عملدرآمد کی رپورٹ ڈائریکٹر جنرل ڈسٹرکٹ جوڈیشری کو بھجوانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے اس مقدمے کو پورے پنجاب کے لیے ایک "ٹیسٹ کیس” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ فیملی مقدمات میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت قابل قبول نہیں۔













