ایم ایس میو ہسپتال کو گرفتار کیا گیا یا اغوا ہوئے؟سکیورٹی سپر وائیزر کی درخواست نے نئی بحث چھیڑ دی

لاہور(پنجاب پوسٹ) میو ہسپتال کے حاضر سروس میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عبدالمدبر رحمان مبینہ طور پر اغواکا معاملہ سامنے آ گیا۔ ایم ایس کے مبینہ اغواء کےخلاف تھانہ گوالمنڈی لاہور میں مقدمہ کی درخواست جمع سکیورٹی سپروائزر کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے۔

درخواست کے متن کے مطابق دوپہر تقریباً 3 بجے پیش آیا جب دفتر کے باہر دو نجی گاڑیاں آکر رکیں جس پر ایک گاڑی پر نمبر پلیٹ موجود نہیں تھی جبکہ دوسری گاڑی پر نمبر پلیٹ نصب تھی۔بتایا گیا ہے کہ دونوں گاڑیوں سے 6 افراد اترے اور بغیر کسی پیشگی اطلاع یا اجازت کے ایم ایس دفتر میں داخل ہو گئے ۔

متن کے مطابق گریڈ 19 کے ایم ایس ڈاکٹر عبدالمدبر رحمان کو زبردستی دفتر سے باہر نکال کر گاڑی میں بٹھایا گیا۔جبکہ نامعلوم افراد نے اپنی شناخت یا کسی قانونی حکم نامے کے متعلق ہسپتال انتظامیہ کو کچھ نہیں بتایا۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کارروائی سے قبل یا بعد میں چیئرمین بورڈ آف مینجمنٹ، چیئرمین یا ایڈمن کو آگاہ نہیں کیا گیا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کی جا رہی ہےاور بعد میں پولیس کے حوالے کی جائے گی۔غیر قانونی اقدام پر فوری مقدمہ درج کر کے ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

ہسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج، داخلی و خارجی ریکارڈ اور بیانات تفتیش کا حصہ بنائے جائیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے