لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے بجلی کے میٹر، بلنگ تنازعات اور دیگر تکنیکی معاملات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ایسے معاملات سول عدالتوں کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے اور ان کا فیصلہ صرف الیکٹرک انسپکٹر کر سکتا ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ میٹر کی جانچ، ٹیسٹنگ رپورٹ، کیلکولیشن اور میٹر ریڈنگ سے متعلق تنازعات الیکٹریسٹی ایکٹ 1910 کے تحت الیکٹرک انسپکٹر کے پاس بھیجے جائیں گے۔ تاہم بجلی چوری، ڈائریکٹ ہکنگ اور میٹر ٹمپرنگ جیسے معاملات تکنیکی تنازعات نہیں، اس لیے ان کیسز میں سول عدالتیں شواہد کی بنیاد پر سماعت کا اختیار رکھتی ہیں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر بجلی کمپنی کا اقدام غیر قانونی یا فراڈ پر مبنی ہو تو سول عدالت مداخلت کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بچے کی بازیابی میں رکاوٹ کیوں؟ سی سی پی او لاہور کو شوکاز نوٹس
عدالت نے قرار دیا کہ عوامی شکایات کے ازالے کے لیے نیپرا اور صوبائی حکومت کے تکنیکی فورمز ہی حتمی اتھارٹی ہیں۔ مزید برآں، فوت شدہ صارف عبدالکریم کے قانونی ورثاء کو شامل کیے بغیر دائر سول درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ورثاء کو شامل کیے بغیر کارروائی آگے نہیں بڑھ سکتی۔
عدالت نے لیسکو کی سول اپیل منظور کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔ لیسکو کے مطابق درخواست گزار دو لاکھ پانچ ہزار روپے سے زائد کا بجلی بل ادا کرنے کا پابند ہے اور اس نے زرعی زمین پر ساڑھے سات ہارس پاور کی موٹر نصب کر رکھی تھی۔ دوسری جانب صارف کا مؤقف تھا کہ بل میں 19 ہزار سے زائد اضافی یونٹس غیر قانونی طور پر شامل کیے گئے اور اضافی بل تکنیکی غلطی پر مبنی ہے، جسے ختم کرنے کا حکم دیا جائے۔













