میلسی (پنجاب پوسٹ) تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کے چلڈرن وارڈ سے متعلق ایک تشویشناک معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں زیرِ علاج ایک بچی میں مبینہ طور پر ایچ آئی وی کی تشخیص کے بعد متاثرہ خاندان نے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
متاثرہ خاندان کے مطابق شہری شاہ نواز نے اپنی کمسن بیٹی عمیمہ کو بخار کے باعث تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میلسی میں داخل کرایا، جہاں خون کی کمی کے باعث اسے خون منتقل کیا گیا۔
خاندان کا دعویٰ ہے کہ چند روز بعد بچی کی طبیعت دوبارہ بگڑ گئی اور بعد ازاں مختلف طبی معائنے میں اس میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔خاندان کے مطابق بچی کو مزید علاج کے لیے پہلے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال وہاڑی اور بعد ازاں چلڈرن کمپلیکس ملتان منتقل کیا گیا، تاہم وہ دورانِ علاج 15 جولائی 2026 کو انتقال کر گئی۔
متاثرہ خاندان نے الزام عائد کیا ہے کہ بچی خون کی منتقلی کے بعد اس مرض کا شکار ہوئی، جبکہ انہوں نے واقعے کی شفاف اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب، اس معاملے پر محکمہ صحت کی جانب سے باضابطہ تحقیقات یا حتمی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ یہ واضح نہیں کہ ایچ آئی وی کی منتقلی کی وجہ کیا تھی، اس لیے اس حوالے سے کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی حقائق واضح ہو سکیں گے۔










