لاہور ( پنجاب پوسٹ )اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا ہے کہ پاک فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دے رہی ہے اور ایک لاکھ سے زائد پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، ایسے میں دہشت گردوں سے مذاکرات کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی اور بیرونی مداخلت سے متعلق عالمی سطح پر تصدیق شدہ شواہد موجود ہیں، جبکہ کلبھوشن یادیو کا کیس بھارتی ایجنسیوں کے کردار کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مساجد، امام بارگاہوں، چوکوں اور عوامی مقامات کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، اس لیے دہشت گردوں سے بات چیت نہیں کی جا سکتی۔
یہ بھی پڑھیں : فرقہ واریت کے خلاف زیرو ٹالرنس، محرم کے بعد بھی اتحاد و رواداری برقرار رکھنے پر زور
ملک احمد خان نے مولانا فضل الرحمان کے مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں وہ شہداء کی عظمت پر زور دیتے تھے، اس لیے انہیں اپنے حالیہ بیانات کی بھی وضاحت کرنی چاہیے۔
سپیکر پنجاب اسمبلی نے انتخابی معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فارم 47 کے حوالے سے پنجاب اسمبلی میں آنے والی 37 درخواستوں کا مکمل جائزہ لیا گیا اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی ایس کا بیانیہ بھی ماضی میں اسی انداز سے بنایا گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان کو فارم 47 پر کوئی شکوہ ہے تو شاید وہ خیبرپختونخوا سے متعلق ہو، کیونکہ ان کی جماعت کی زیادہ نشستیں وہیں موجود ہیں۔










