پنجاب پولیس کے تحفظ مراکز متحرک، رواں سال کتنے ہزار خواتین، بچوں اور ٹرانسجینڈرز کو مدد فراہم کی ؟

لاہور ( پنجاب پوسٹ ) پنجاب پولیس کے تحفظ مراکز (تحفظ سینٹرز) بے سہارا، کمزور اور تشدد کا شکار طبقات کو سماجی، قانونی اور نفسیاتی معاونت فراہم کرنے میں سرگرم ہیں۔ ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق رواں سال صوبہ بھر کے تحفظ مراکز پر 48 ہزار سے زائد افراد کو مختلف نوعیت کی امدادی اور بحالی خدمات فراہم کی گئیں۔

اعداد و شمار کے مطابق تحفظ مراکز سے 23 ہزار 522 خواتین، 19 ہزار 223 بچوں اور 5 ہزار 369 ٹرانسجینڈرز نے استفادہ کیا۔ جبکہ صرف لاہور میں قائم تحفظ مراکز پر 3 ہزار 554 افراد کو مدد فراہم کی گئی، جن میں 2 ہزار 385 بچے، 960 خواتین اور 209 ٹرانسجینڈرز شامل ہیں۔

ترجمان کے مطابق پنجاب بھر میں 39 جبکہ لاہور میں 3 تحفظ مراکز روزانہ کی بنیاد پر متاثرہ اور کمزور طبقات کو خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

آئی جی پنجاب نے کہا کہ تحفظ مراکز ٹرانسجینڈرز، خواتین، بچوں اور دیگر کمزور طبقات کو سماجی و قانونی تحفظ اور بحالی کی سہولیات فراہم کرنے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ٹرانسجینڈر وکٹم سپورٹ افسران اپنی کمیونٹی کے افراد کو ترجیحی بنیادوں پر قانونی اور سماجی معاونت فراہم کریں۔

آئی جی پنجاب نے مزید ہدایت کی کہ صنفی جرائم، سماجی عدم تحفظ، استحصال اور تشدد کا شکار افراد تک رسائی کے لیے آؤٹ ریچ پروگرام کو مزید مؤثر بنایا جائے اور ٹرانسجینڈرز، خواتین اور بچوں سے متعلقہ شکایات پر متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ الائیڈ اداروں اور فلاحی تنظیموں کے تعاون سے محروم اور کمزور طبقات کی مشکلات کے ازالے کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے