لاہور ( پنجاب پوسٹ ) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کمیشن برائے حقوقِ خواتین (Punjab Commission on the Status of Women) کی چیئرپرسن کی تعیناتی سے متعلق دائر درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے معاملہ دادرسی کے لیے چیف سیکرٹری پنجاب کے سپرد کر دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں ہدایت کی کہ چیف سیکرٹری پنجاب درخواست گزار آمنہ ملک سمیت تمام متعلقہ فریقین کا مؤقف سن کر قانون کے مطابق فیصلہ کریں۔ عدالت نے مزید حکم دیا کہ چیئرپرسن کی تعیناتی سے متعلق درخواست پر 45 روز کے اندر فیصلہ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں : خانیوال: نئی ڈپٹی کمشنر متحرک، چارج سنبھالتے ہی فیلڈ میں پہنچ گئیں
شہری آمنہ ملک کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ پنجاب حکومت نے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کمیشن برائے حقوقِ خواتین تو قائم کر رکھا ہے، تاہم 2019 سے کمیشن کی چیئرپرسن کا عہدہ خالی ہے اور تاحال اس پر تقرری عمل میں نہیں لائی گئی۔
درخواست گزار کے مطابق چیئرپرسن کی عدم تعیناتی کے باعث کمیشن کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے اور خواتین کو اپنے حقوق کے تحفظ اور مسائل کے حل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ عدالت پنجاب حکومت کو کمیشن برائے حقوقِ خواتین کی چیئرپرسن کی تعیناتی کا حکم جاری کرے۔
لاہور ہائیکورٹ نے براہِ راست تقرری کا حکم دینے کے بجائے معاملہ چیف سیکرٹری پنجاب کو بھجواتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ تمام متعلقہ فریقین کو سننے کے بعد مقررہ مدت کے اندر میرٹ اور قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔













