بیٹھک سکول نیٹ ورک کے وفد کا دورۂ پنجاب پوسٹ ، اسما فیض کی پراجیکٹ پر بریفنگ

لاہور (پنجاب پویٹ) بیٹھک اسکول نیٹ ورک کے وفد نے پنجاب پوسٹ کا دورہ کیا ۔ وفد نے خواتین کی جانب سے بنائے گئے میڈیا ادارے کے قیام کو سراہا، ساتھ ہی وفد نے بیٹھک سکول پراجیکٹ کے بارے میں بریفنگ دی ۔

نائب صدر بیٹھک سکول نیٹ ورک اسما فیض کی سربراہی میں تین رکنی وفد نے پنجاب پوسٹ کا دورہ کیا ، جہاں ٹیم ممبران نور فاطمہ ، زروا خان ، مریم گیلانی ، نورین فاطمہ اور اسریٰ بتول سے ملاقات کی اور انہیں پنجاب پوسٹ کی قیام پر گلدستہ بھی پیش کیا ۔

بیٹھک نیٹ ورک کے وفد میں نائب صدر کے علاوہ منیجر پروموشنز اینڈ مارکیٹنگ معاذ شیخ اور آر ایم ڈی ایگزیکٹیو لاہور۔۔اثنا نعیم شامل تھیں ۔

اپنی بریفنگ میں نائب صدر بیٹھک سکول نیٹ ورک اسما فیض کا کہنا تھا کہ بیٹھک سکول کا آغاز1996 میں اس وقت ہوا جب چار سہیلیوں نے اپنے حالات پر غور کرتے ہوئے ایک اہم فیصلہ کیا۔ انہوں نے سوچا کہ ہم تو تعلیم حاصل کر چکے ہیں، لیکن ان بچوں کا کیا ہوگا جو فیس نہ ہونے کی وجہ سے پڑھ نہیں سکتے؟ معاشی مجبوریوں کے باعث چائلڈ لیبر بڑھتی جا رہی تھی، بچے سڑکوں پر آ رہے تھے، کچھ چوری جیسے جرائم میں ملوث ہو رہے تھے اور کئی نشے کی لت کا شکار ہو رہے تھے۔

یہ صورتحال دیکھ کر ان چاروں سہیلیوں نے عزم کیا کہ وہ ان بچوں کا مستقبل ضائع نہیں ہونے دیں گی۔ وسائل نہ ہونے کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے گھروں کی بیٹھکوں، ڈرائنگ رومز حتیٰ کہ ایک سہیلی نے تو گاڑیوں کے گیراج میں ہی اسکول قائم کر لیا۔ اس نیک مقصد میں لوگوں نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا اور اپنی بیٹھکیں استعمال کرنے کی اجازت دی۔
ابتدائی دنوں میں صرف 5 سے 7 بچے آئے، لیکن یہ خواتین خود گلیوں میں جا کر لوگوں کو آگاہی دیتی تھیں۔ خاص طور پر بچوں کی ماؤں کو قائل کرنا ایک بڑا چیلنج تھا کیونکہ وہ سمجھتی تھیں کہ اگر بچے اسکول جائیں گے تو کمائے گا کون۔ اس سفر میں انہیں بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، مگر انہوں نے رضاکار اساتذہ کو شامل کیا اور اپنے خاندانوں کو بھی اس مشن کی اہمیت سمجھائی۔

پہلے ہی سال طلبہ کی تعداد 500 سے بڑھ کر 600 تک جا پہنچی۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس نیٹ ورک نے بے پناہ ترقی کی، اور آج نہ صرف پاکستان بھر میں اس کی 140 شاخیں قائم ہیں بلکہ یہ سلسلہ ملک سے باہر بھی پھیل چکا ہے۔ اب ان کی باقاعدہ اسکول عمارتیں موجود ہیں، جو عوام کے تعاون اور عطیات سے تعمیر ہوئیں۔

اسما فیض کے مطابق ابتدا میں تعلیم مکمل طور پر مفت دی جاتی تھی، مگر کئی بچے کاپیاں لے جا کر بیچ دیتے یا اسکول باقاعدگی سے نہیں آتے تھے۔ اس لیے بچوں میں احساسِ ذمہ داری پیدا کرنے کے لیے 200 سے 250 روپے فیس مقرر کی گئی، جبکہ جو بچے استطاعت نہیں رکھتے انہیں اب بھی مفت تعلیم دی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے اسکولز کی فیس 300 روپے سے زیادہ نہیں ہے، اور یہاں بچوں کو میٹرک تک تعلیم دی جاتی ہے۔ ساتھ ہی دینی تعلیم اور معاشرے میں باوقار انداز سے جینے کی تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ خاص طور پر بچوں کی اردو اور انگریزی پر بھرپور توجہ دی جاتی ہے. بیٹھک اسکول نیٹ ورک آج ایک روشن مثال بن چکا ہے، جو ثابت کرتا ہے کہ اگر نیت صاف اور ارادہ مضبوط ہو تو محدود وسائل کے باوجود بھی بڑے خواب حقیقت میں بدلے جا سکتے ہیں۔
قبل ازیں پنجاب پوسٹ کی ٹیم نے وفد کو خواتین کی جانب سے بنائے گئے میڈیا ادارے کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہمارا مقصد پنجاب میں خواتین کے مسائل اجاگر کرنا اور ان کے حقوق کیلئے آواز بلند کرنا ہے


Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے