لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے محرم الحرام کے لائسنس اجراء پالیسی سے متعلق بڑا فیصلہ دیتے ہوئے حکومت پنجاب کو محرم الحرام بارے نئی پالیسی تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ حکومت پنجاب چار ماہ میں جامع پالیسی بنا کر اگلے محرم سے قبل نافذ کرے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پالیسی میں نئے لائسنس، تجدید، معطلی، منسوخی اور اصل لائسنس ہولڈر کے انتقال کے بعد طریقۂ کار بھی واضح کیا جائے۔ محرم الحرام جلوسوں بارے سالوں پرانی پالیسی پر ازسرِنو غور کیا جائے جبکہ محرم کے جلوسوں کے نئے لائسنسوں پر مستقل پابندی مناسب نہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ مرحوم شخص کے نام پر جلوس کا لائسنس بحال نہ کرنا قانون کے مطابق نہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ جلوس کا لائسنس وراثتی حق نہیں، تاہم لائسنس ہولڈر کی وفات سے مذہبی حقوق ختم نہیں ہوتے، جبکہ محرم کے جلوس عام عوامی اجتماعات نہیں بلکہ آئین کے تحت مذہبی آزادی سے جڑے معاملات ہیں۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ ہر سال محرم سے قبل عدالتوں سے رجوع کرنے کی روایت ختم ہونی چاہیے اور حکومت بروقت محرم الحرام کے جلوسوں بارے طریقۂ کار وضع کرے۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ تاریخی جلوسوں کے لائسنس، نئے لائسنس اور متنازع دعوؤں سے متعلق واضح پالیسی مرتب کرے، جبکہ سیکیورٹی اور مذہبی آزادی کے درمیان متوازن اور قابلِ عمل نظام وضع کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
جسٹس انوار حسین نے 13 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ یہ فیصلہ سید مجیب علی گیلانی کی جانب سے محرم الحرام کے جلوس کے بارے ہائیکورٹ میں دائر درخواست پر سنایا گیا۔











