خاتون کولیگ کو اولاد نہ ہونے کا طعنہ: سرکاری افسر کو 5 لاکھ روپے جرمانہ

اسلام آباد (پنجاب پوسٹ) وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت نے خاتون کولیگ کو اولاد نہ ہونے کا طعنہ دیتے ہوئے بار بار خواجہ سرا سے تشبیہ دینے پر سرکاری افسر پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا ۔

وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت کے فیصلے کے مطابق محض نسلی یا لسانی حوالہ جات کا استعمال ازخود ہراسانی تصور نہیں ہوتا،شعوری طور پر صنفی بنیادوں پر تضحیک آمیز زبان کو ایک شناخت شدہ دفتری حریف کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا گیا جو امتیازی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ محکمانہ رقابت میں خاتون کے خلاف تضحیک آمیز زبان کا استعمال پر 5 لاکھ جرمانہ عائد کیا گیا۔
ریکارڈ کے مطابق ملزم نے شکایت کنندہ کے خلاف ایک منظم مہم کے تحت متعدد توہین آمیز پیغامات آن لائن شائع کیے۔ تضحیک آمیز اصطلاحات بار بار استعمال کیں جبکہ ایک جعلی کتاب کا عنوان اور خودساختہ تصنیفی و اشاعتی تفصیلات بھی گھڑیں تاکہ شکایت کنندہ کا مذاق اڑایا جا سکے۔ اولاد پیدا کرنے سے قاصر رہنے پر ملزم نے اسی ذاتی امر کو نشانہ بنا کر خاتون کولیگ کو بار بار خواجہ سرا برادری سے تشبیہ دی۔ شعوری طور پر صنفی بنیادوں پر تضحیک آمیز زبان کو کولیگ کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا۔


وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت نے فیصلہ دیا کہ خواجہ سرا شناخت سے منسوب اصطلاحات کو بطور تضحیک استعمال کرنا محض ناشائستہ زبان نہیں بلکہ نقصان دہ دقیانوسی تصورات کو تقویت دیتا ہے۔یہ عمل معاشرے کے ایک انتہائی کمزور اور مظلوم طبقے کے خلاف امتیازی رویے کی عکاسی کرتا ہے۔اس عمل کی پیشہ ورانہ ماحول میں کوئی گنجائش نہیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے