اسپیکر پنجاب اسمبلی کا مولانا فضل الرحمٰن پر سخت ردعمل، دہشت گردوں سے مذاکرات کی مخالفت

لاہور( پنجاب پوسٹ ) اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے حالیہ مؤقف پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ جمعیت علمائے اسلام ملک کی ایک بڑی سیاسی اور پارلیمانی قوت ہے، تاہم مولانا فضل الرحمٰن کی حالیہ گفتگو سے وہ اتفاق نہیں کرتے، بلکہ عوام کی ایک بڑی تعداد بھی اس مؤقف سے اختلاف رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست اور دہشت گردوں کے درمیان مذاکرات کی بات کرنا درست نہیں۔ ان کے بقول، جس شخص یا گروہ نے ہتھیار اٹھا رکھے ہوں، معصوم شہریوں، مساجد، امام بارگاہوں، عدالتوں اور دیگر عوامی مقامات کو نشانہ بنایا ہو اور بے گناہ لوگوں کا خون بہایا ہو، ایسے عناصر کو سیاسی جدوجہد کرنے والی جماعتوں کے برابر نہیں رکھا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے ساتھ ریاست کا رویہ قانون کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ مذاکرات پر مبنی۔

ملک محمد احمد خان نے سوال اٹھایا کہ جب بلوچ لبریشن آرمی جیسے گروہوں پر ٹرین حملوں سمیت متعدد دہشت گرد کارروائیوں کے الزامات موجود ہیں اور کلبھوشن یادیو کے اعترافات بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں، تو ایسے حالات میں افواجِ پاکستان کا کردار کیا ہونا چاہیے؟ کیا ریاست دہشت گردوں سے مذاکرات کرے یا ان کے خلاف کارروائی جاری رکھے؟ انہوں نے کہا کہ اگر چند مٹھی بھر دہشت گرد نوے فیصد عوام کو خوف اور تشدد کے ذریعے یرغمال بنانے کی کوشش کریں تو افواجِ پاکستان کا فرض ہے کہ وہ ریاست اور شہریوں کا دفاع کرے۔

انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس اہم معاملے پر مولانا فضل الرحمٰن خاموش ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں اکثر اس بات پر زیادہ بحث ہوتی ہے کہ بات کس نے کی، جبکہ اصل توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ بات کیا کی گئی ہے۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اپنی گفتگو میں تحریک انصاف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان کی تحریک واقعی فوج کے سیاسی کردار کے خلاف ہوتی تو وہ اس کی حمایت کرتے، لیکن فوج کی مدد سے اقتدار میں آنا اور بعد میں فوج کے غیرجانبدار ہونے پر اسی ادارے کی مخالفت کرنا ایک متضاد طرزِ عمل ہے، جسے درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ملک محمد احمد خان نے ماضی کی سیاسی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ پرویز الٰہی نے خود جنرل پرویز مشرف کو دس سال تک باوردی صدر منتخب کرانے کی بات کی تھی، جبکہ اسی دور میں متحدہ مجلس عمل نے بھی پارلیمنٹ میں متعلقہ قانون سازی کی حمایت کی۔ ان کے مطابق بعض سیاسی جماعتیں اقتدار میں ہوں تو فوج کی حمایت کرتی ہیں، لیکن سیاسی حالات بدلتے ہی اپنا مؤقف بھی تبدیل کر لیتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کہنا کہ پاکستان کی حفاظت پر مامور فوجی صرف تنخواہ کے لیے خدمات انجام دیتے ہیں، شہداء اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کی نفی کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی سلامتی کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کے بارے میں ایسی گفتگو کسی صورت مناسب نہیں۔

اپنی گفتگو کے اختتام پر ملک محمد احمد خان نے مطالبہ کیا کہ مولانا فضل الرحمٰن شہداء سے متعلق اپنے بیان پر پوری قوم سے معافی مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر قومی سلامتی کے معاملات پر اسی نوعیت کے بیانات دیے جائیں تو پھر ایسے بیانیے اور تحریک انصاف کے مؤقف میں کوئی خاص فرق باقی نہیں رہتا اور دونوں ایک ہی طرزِ سیاست کی نمائندگی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے