پنجاب کے 12 نوجوان انسانی سمگلر کے ہاتھوں کیسے پھنسے؟ درد ناک تفصیلات سامنے آ گئیں

لاہور(پنجاب پوسٹ) بیرونِ ملک جانے کے لیے غیر قانونی “ڈنکی” راستہ اختیار کرنے والے 12 نوجوان مبینہ طور پر ڈنکی مافیا کے چنگل میں پھنس گئے، جن میں سے 7 کا تعلق لاہور کے علاقے پسین (جلو موڑ کے قریب) سے بتایا جا رہا ہے۔

اہل خانہ کے مطابق لاپتہ ہونے والے نوجوانوں میں تین کزن دلشاد ، اسامہ اور وقاص بھی لاپتہ شامل ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ عامر نامی ایجنٹ لاکھوں روپے لے کر نوجوانوں کو ساتھ لے گیا، اور ایران پہنچ کر ابتدا میں نوجوانوں نے رابطہ کیا اور بعد اذاں نوجوانوں کا خاندان کا رابطہ ختم ہو گیا۔

تفصیلات کے مطابق ایک نوجوان وقاص کے نمبر سے رقم کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔جبکہ ایجنٹ کے جانب سے تین نوجوانوں کی دل دہلا دینے والی فوٹیج ان کے اہل خانہ کو بھیجی گئی ہے۔ فوٹیج میں نوجوان انتہائی بری حالت میں نظر آ رہے ہیں اور نوجوانوں کے گلے میں زنجیریں باندھی گئی ہیں اور وہ رو رو کر گھر والوں سے رقم بھیجنے کی استدعا کر رہے ہیں

عامر نوجوانوں کو بہلا پھسلا کر ڈنکی لگانے کے بہانے ساتھ لے گیا اور پہلے10 لاکھ کی ڈیمانڈکی گئی جو بھیج دیے گئے اور اب ہر بندے کے لیے مزید 6 چھ ہزار ڈالر کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں نتائج سنگین ہوں گے۔

مغوی نوجوانوں کے اہل خانہ نے ایف آئی اے میں درخواست جمع کروا دی ہے اور حکومت سے مدد کرنے کی اپیل کی ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے