لاہور( پنجاب پوسٹ ) گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے ایم ایس پروگرام میں داخلہ نہ ملنے کے خلاف دائر درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے یونیورسٹی انتظامیہ سے وضاحت طلب کر لی۔ عدالت نے معاملے پر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے ذمہ دار افسر کو طلب کر لیا ہے۔
درخواست کی سماعت لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد اسحاق نے کی، جہاں طالبہ ایمان عمران کی جانب سے ایڈووکیٹ صفدر شاہین پیرزادہ پیش ہوئے اور عدالت کو درخواست گزار کا مؤقف بتایا۔
درخواست گزار طالبہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے ایم ایس پروگرام میں داخلہ لینا چاہتی تھیں۔ یونیورسٹی کی جانب سے داخلے کے لیے آن لائن درخواستیں طلب کی گئی تھیں، تاہم مقررہ مدت کے دوران انٹرنیٹ سروس میں خرابی کے باعث وہ اپنی درخواست جمع نہ کرا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں : پنجاب میں غیر ملکی شہریوں کے تحفظ کے لیے جدید QR پینک بٹن سسٹم متعارف
درخواست میں کہا گیا کہ داخلے کی آخری تاریخ گزرنے کے بعد یونیورسٹی نے درخواستیں جمع کروانے کی تاریخ میں توسیع کرتے ہوئے سات جولائی تک کا وقت دیا، لیکن اس کے باوجود انٹرنیٹ کا مسئلہ حل نہ ہو سکا اور درخواست گزار داخلہ فارم مکمل نہ کر سکیں۔
طالبہ نے عدالت سے استدعا کی کہ یونیورسٹی انتظامیہ کو انہیں ایم ایس پروگرام میں داخلہ دینے کا حکم دیا جائے تاکہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔
عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے متعلقہ ذمہ دار افسر کو طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر معاملے کی وضاحت پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔









