پنجاب حکومت(پنجاب پوسٹ) نے صوبے کے خراب اور آلودہ پانی سے متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو صاف پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں صاف پانی منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جس میں بوٹلنگ پلانٹس، واٹر فلٹریشن پلانٹس اور کلسٹر بیسڈ واٹر سپلائی منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اجلاس میں متعلقہ اضلاع میں خراب یا بند واٹر فلٹریشن پلانٹس کی فوری بحالی اور صاف پانی کی فراہمی کو ترجیح دینے پر زور دیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ خوشاب، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور اور رحیم یار خان میں بوٹلنگ پلانٹس تیار کر لیے گئے ہیں، جبکہ خراب پانی والے علاقوں تک صاف پانی کی بوتلیں خصوصی ٹرکوں کے ذریعے پہنچائی جائیں گی۔ خوشاب بوٹلنگ پلانٹ کی ڈیجیٹل رپورٹ بھی پیش کی گئی، جس کے مطابق پلانٹ فی گھنٹہ 50 ہزار بوتلیں تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو اپنے اضلاع میں خراب پانی سے متاثرہ علاقوں کی نشاندہی کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو صاف پانی کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے سی ایم پنجاب صاف پانی پراجیکٹ کے تحت مزید چار بوٹلنگ پلانٹس قائم کرنے کی منظوری بھی دی۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ صوبہ بھر میں 2,258 واٹر فلٹریشن پلانٹس قائم کیے جائیں گے، جبکہ صاف پانی کی فراہمی کے لیے واٹر ٹینک پر مشتمل کلسٹر بیسڈ پلانٹس بھی بنائے جائیں گے۔ پہلے مرحلے میں بہاولپور ڈویژن میں 22 اور راجن پور میں 10 کلسٹر بیسڈ پلانٹس تعمیر کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ نے واٹر فلٹریشن پلانٹس کی بندش یا خرابی سے متعلق شکایات کا فوری ازالہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنرز کو متعلقہ اضلاع میں خراب یا غیر فعال فلٹریشن پلانٹس کی جلد بحالی کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنانے کا حکم دیا۔








