لاہور(پنجاب پوسٹ)سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کے بعض علاقوں میں پیدا ہونے والی صورتحال انتہائی افسوسناک ہے، جہاں احتجاج کرنے والے اور ریاستی ادارے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے حالات اس نہج تک پہنچ گئے ہیں، تاہم اس کی بنیادی وجہ آزاد کشمیر میں دہائیوں سے جاری کمزور طرزِ حکمرانی اور عوامی مسائل کا بروقت حل نہ ہونا ہے۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض مطالبات جائز نوعیت کے تھے، جن پر بات کی جا سکتی ہے، تاہم کچھ مطالبات ایسے بھی تھے جنہیں تسلیم کرنا ممکن نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں:بورے والا: بہن بھائی کو 2, 2 سال قید کی سزا کیوں سنائی گئی؟
ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں بجلی پہلے ہی انتہائی کم نرخوں پر فراہم کی جا رہی ہے اور وفاقی حکومت کی بڑی گرانٹس اسی مد میں خرچ ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کا مطالبہ جائز ہے، لیکن ان پر عملدرآمد کے لیے مناسب ٹائم فریم طے کیا جا سکتا ہے کیونکہ پورا قومی بجٹ صرف آزاد کشمیر پر خرچ نہیں کیا جا سکتا، پورے ملک کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھنا ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالات اس وقت مزید خراب ہوئے جب بعض مخصوص عناصر نے احتجاجی اسٹیج سے پاکستان کے خلاف بیانات دیے، جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ خواجہ سعد رفیق نے اس بات پر زور دیا کہ مسائل کا حل مذاکرات، بہتر حکمرانی اور ذمہ دارانہ رویے سے ہی ممکن ہے، تاکہ عوامی شکایات کا ازالہ کیا جا سکے اور ریاستی اداروں اور شہریوں کے درمیان اعتماد بحال ہو۔











