آٹے اور گندم کی قلت پر قابو پانے کا پنجاب حکومت نے کونسا فارمولا متعارف کروایا؟

پنجاب حکومت (پنجاب پوسٹ)نے صوبے میں گندم، آٹے اور روٹی کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے اور عوام کو سستی اشیائے خورونوش کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے سرکاری گندم کے ذخائر کے اجراء کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کے تحت فلور ملوں کو سرکاری گندم 3,800 روپے فی 40 کلوگرام کے نرخ پر فراہم کی جا رہی ہے تاکہ مارکیٹ میں گندم اور آٹے کی وافر دستیابی برقرار رہے، قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ نہ ہو اور عام شہری خصوصاً غریب اور کم آمدن والے طبقات کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
ڈی جی فوڈ پنجاب امجد حفیظ کے مطابق سرکاری گندم کے اجرا کا عمل ایک جامع اور مربوط حکمت عملی کے تحت جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وقت گزرنے کے ساتھ گندم کی قیمت میں بتدریج کمی بھی لائی جائے گی تاکہ عوام کو مزید ریلیف مل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ آٹا اور گندم ہر شہری کی دسترس میں رہیں اور کسی بھی سطح پر قلت یا مصنوعی مہنگائی پیدا نہ ہونے پائے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاسکو (PASSCO) کی ایک ملین میٹرک ٹن گندم حکومت پنجاب کو منتقل کی جا رہی ہے، جس کا بنیادی مقصد صوبے میں گندم کی وافر دستیابی کو یقینی بنانا اور مارکیٹ میں طلب و رسد کا توازن برقرار رکھنا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف فلور ملوں کو خام مال کی فراہمی بہتر ہوگی بلکہ آٹے کی قیمتوں میں استحکام بھی آئے گا۔
ڈی جی فوڈ پنجاب نے کہا کہ محکمہ خوراک مارکیٹ میں گندم اور آٹے کی قیمتوں کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے، جبکہ مصنوعی قلت پیدا کرنے، ذخیرہ اندوزی یا ناجائز منافع خوری میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ عوام کو ریلیف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے