لاہور ( پنجاب پوسٹ ) لاہور کے علاقے والٹن کی ایک گلی میں معمول کے مطابق زندگی رواں تھی، مگر چند لمحوں بعد یہی گلی چیخ و پکار، خوف اور آگ کے شعلوں سے بھر گئی۔ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے نہ صرف اہلِ علاقہ کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیا کہ جب محبت احترام کی حدود پار کر جائے تو وہ محبت نہیں بلکہ خطرناک جنون بن جاتی ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم، جس کی شناخت خالد کے نام سے ہوئی ہے، پہلے ہی دو شادیاں کر چکا تھا۔ تاہم دونوں بیویاں گھریلو اختلافات کے باعث اسے چھوڑ کر اپنے میکے جا چکی تھیں۔ ان حالات کے بعد خالد کی اپنے پڑوس میں رہنے والی خاتون ثنا سے جان پہچان ہوئی، جو شادی شدہ اور تین بچوں کی ماں ہے۔
تفتیشی افسر کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ ملزم نے خاتون پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا کہ وہ اپنے شوہر سے طلاق لے کر اس سے شادی کرے۔ لیکن ثنا نے یہ مطالبہ صاف الفاظ میں مسترد کر دیا اور اپنے خاندان کے ساتھ رہنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔
یہ بھی پڑھیں : ذاتی رنجش یا منصوبہ بندی؟ والٹن روڈ پر خاتون کو زندہ جلانے کی کوشش
پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کے انکار نے ملزم کو شدید مشتعل کر دیا۔ الزام ہے کہ غصے اور انتقامی جذبے میں اس نے ثنا پر آتش گیر مادہ چھڑک کر آگ لگا دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے شعلے بلند ہوئے اور خاتون درد سے چیخ اٹھی۔
موقع پر موجود افراد کے مطابق آگ لگانے کے بعد ملزم فرار ہونے کی کوشش کرنے لگا، مگر شدید تکلیف کے باوجود ثنا نے ہمت نہ ہاری۔ اس نے بھاگتے ہوئے ملزم کو پکڑ لیا تاکہ وہ فرار نہ ہو سکے۔ اس دوران آگ کی لپیٹ میں ملزم بھی آ گیا اور دونوں بری طرح جھلس گئے۔
شور و غل سن کر اہلِ محلہ جمع ہو گئے۔ انہوں نے فوری طور پر ریسکیو اداروں اور پولیس کو اطلاع دی۔ امدادی ٹیموں نے دونوں زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد لاہور کے جناح ہسپتال منتقل کر دیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ تفتیشی افسر کے مطابق ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعے کی بنیادی وجہ شادی سے انکار تھا، تاہم تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور زخمیوں کے بیانات سمیت دیگر شواہد کی روشنی میں قانونی کارروائی مکمل کی جائے گی۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ محبت کے نام پر کسی پر رشتہ قبول کرنے، شادی کرنے یا اپنی زندگی کے فیصلے بدلنے کے لیے دباؤ ڈالنا نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ قانوناً بھی سنگین جرم ہے۔ کسی بھی شخص کو اپنے مستقبل اور ازدواجی زندگی کے فیصلے آزادانہ طور پر کرنے کا مکمل حق حاصل ہے، اور اس حق کو تشدد یا دھمکی کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔










