لاہور(پنجاب پوسٹ ) لاہور کے نجی واٹر پارک میں 10 سالہ بچی رامین فاطمہ کے جاں بحق ہونے کے واقعے میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تین ذمہ داران کو گرفتار کر لیا۔
ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بچی کی موت پول کے کھلے مین ہول میں گرنے سے ہوئی۔ حادثہ مین ڈرین ہول پر حفاظتی جالی نہ ہونے کے باعث پیش آیا۔واقعے کے بعد تھانہ باٹا پور میں بچی کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 1564/26 درج کر لیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: لاہور، مقامی واٹر پارک میں حفاظتی اقدامات کے باوجود 9 سالہ بچی کیسے ڈوبی ؟
پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں واٹر پارک کا مینیجر ثناء اللہ، سکیورٹی انچارج نوید اور سی سی ٹی وی کیمروں کا انچارج آصف شامل ہیں۔ترجمان کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور واقعے کی ہر پہلو سے تفتیش جاری ہے تاکہ غفلت اور ذمہ داری کا مکمل تعین کیا جا سکے۔ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا ہے کہ واقعے میں غفلت یا کوتاہی کے مرتکب کسی بھی شخص کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا اور بچی کی موت کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ لاہور پولیس متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کرے گی۔











