لاہور ( پنجاب پوسٹ ) نئے تعلیمی سال کے آغاز سے قبل پنجاب میں درسی کتب کی دستیابی کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کرنے لگا ہے۔ اوپن مارکیٹ میں مختلف جماعتوں کی اہم کتابوں کی شدید قلت کے باعث طلبہ اور والدین پریشانی کا شکار ہیں، جبکہ کتابوں کی عدم دستیابی نے تعلیمی تیاریوں کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق دہم اور گیارہویں جماعت کی درسی کتب کی ایلوکیشن میں تاخیر کے باعث بحران مزید بڑھ گیا ہے۔ مارکیٹ میں کئی اہم مضامین کی کتابیں دستیاب نہیں، جس کی وجہ سے طلبہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چھٹی جماعت کی جغرافیہ اور تاریخ کی کتابیں مارکیٹ سے غائب ہیں، جبکہ ساتویں اور آٹھویں جماعت کی ریاضی کی کتابوں کی شدید شارٹیج سامنے آئی ہے۔ صرف ساتویں جماعت کی ریاضی کی کتابوں کی طلب پوری کرنے کے لیے تقریباً 40 ہزار نئی کتابوں کی فوری ضرورت ہے۔
اسی طرح نویں جماعت کی ہوم اکنامکس، نویں اور دہم جماعت کی جنرل سائنس، دہم کی ہوم اکنامکس اور نویں، دہم کی پنجابی کی کتابیں بھی مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں، جس کے باعث طلبہ اور والدین کتابوں کے حصول کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
درسی کتب کی قلت کے معاملے پر پیکٹا بھی متحرک ہو گیا ہے۔ ادارے نے شارٹ ہونے والی کتابوں کی فراہمی کے لیے پبلشرز سے درخواستیں طلب کر لی ہیں، جبکہ طلب کے مطابق کتابوں کی ایلوکیشن کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
پیکٹا حکام کے مطابق کوشش کی جا رہی ہے کہ طلبہ کو درپیش مشکلات کا فوری ازالہ کیا جائے اور مارکیٹ میں درسی کتب کی فراہمی طلب کے مطابق یقینی بنائی جائے۔
تاہم والدین اور طلبہ کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ کتابوں کی قلت کب تک ختم ہوتی ہے اور تعلیمی سال کے آغاز سے قبل تمام جماعتوں کی مکمل کتب مارکیٹ میں کب دستیاب ہوں گی۔









