محکمہ اوقاف پنجاب میں کرپشن اور نذرانوں میں گھپلے، کس دربار سے سب سے زیادہ چوری کی گئی؟


لاہور ( پنجاب پوسٹ ) محکمہ اوقاف پنجاب میں مبینہ کرپشن اور مزارات پر آنے والے نذرانوں کی رقم میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات پر کارروائی کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا ہے۔ مختلف درباروں سے متعلق مقدمات میں متعدد سابق افسران اور اہلکاروں کو لاکھوں اور کروڑوں روپے کی ریکوری کے حتمی نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد محکمہ اوقاف میں احتساب کا عمل ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سب سے بڑی کارروائی داتا دربار سے متعلق سامنے آئی ہے، جہاں سابق منیجر طاہر مقصود کو مجموعی طور پر ایک کروڑ 31 لاکھ 96 ہزار روپے سے زائد کی ریکوری کے نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔ اسی طرح داتا دربار کے سابق ایڈمنسٹریٹر شیخ جمیل احمد کو بھی ایک کروڑ 20 لاکھ روپے سے زائد کی ریکوری کا نوٹس بھجوایا گیا ہے۔

تحقیقات کے دائرے میں آنے والے دیگر افسران میں سابق ریسرچ اسسٹنٹ حافظ جاوید شوکت بھی شامل ہیں، جنہیں مبینہ مالی بے ضابطگیوں پر 64 لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے۔

ادھر اوکاڑہ کرپشن کیس میں بھی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سابق منیجر شفقت عباس، زوار حسین اور عامر ستار کو ریکوری نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ دربار بابا بلھے شاہؒ اور بی بی پاک دامنؒ سے متعلق مقدمات میں بھی لاکھوں روپے کی ریکوری کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

محکمہ اوقاف کے مطابق جن افسران اور اہلکاروں کو ریکوری نوٹسز جاری کیے گئے ہیں، انہوں نے ان کارروائیوں کے خلاف چیف سیکرٹری پنجاب کے روبرو اپیلیں دائر کر رکھی ہیں، جن پر قانونی کارروائی جاری ہے۔

محکمہ اوقاف میں ہونے والی اس پیش رفت نے مزارات کے مالی معاملات، نذرانوں کی شفافیت اور سرکاری نگرانی کے نظام پر ایک بار پھر اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اب نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ اپیلوں کے فیصلوں کے بعد ریکوری کا عمل کس حد تک آگے بڑھتا ہے اور ان مقدمات میں مزید کیا پیش رفت سامنے آتی ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے