لاہور (پنجاب پوسٹ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت سکول ایجوکیشن سے متعلق خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے میں تعلیمی اصلاحات، طلبہ کی انرولمنٹ، نجی سکولوں کی رجسٹریشن اور اساتذہ کی ڈیجیٹل ادائیگیوں سمیت مختلف امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کو ہدایت کی کہ وہ ہر ہفتے ایک سرکاری سکول کا دورہ کریں اور طلبہ کو خود کلاس پڑھائیں تاکہ تعلیمی نظام سے براہِ راست رابطہ مضبوط ہو اور تدریسی معیار کا عملی جائزہ لیا جا سکے۔
اجلاس میں پرائیویٹ سکولوں کی رجسٹریشن کے لیے ڈیجیٹل میکانزم کا جائزہ لیا گیا، جبکہ پنجاب بھر میں ٹیوشن سینٹرز کی رجسٹریشن اور ڈیجیٹل میپنگ کے لیے تجاویز طلب کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو طریقۂ کار مرتب کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ سرکاری سکولوں میں دو سال چار ماہ کے دوران 43 لاکھ طلبہ کی انرولمنٹ کا ہدف کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے، جو صوبے میں حقیقی انرولمنٹ کا اب تک کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے۔اجلاس میں پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF) کے اساتذہ کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے ایک لاکھ 38 ہزار پیف اساتذہ کے بینک اکاؤنٹس کھولے جائیں گے تاکہ تنخواہوں کی ادائیگی شفاف اور بروقت یقینی بنائی جا سکے۔
اجلاس میں پی ایس آر پی (PSRP) سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی، جبکہ سکول ایجوکیشن کے شعبے میں اختراعی ذرائع آمدن کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے متعلقہ حکام کو اس حوالے سے ایک جامع اور قابلِ عمل منصوبہ جلد پیش کرنے کی ہدایت کی۔









