بہاولپور: شیر باغ میں نایاب شیرنی کی موت کیسے ہوئی؟ حقیقت سامنے آگئی

بہاولپور (پنجاب پوسٹ)کے شیر باغ میں نایاب سفید شیرنی کی اچانک موت کی وجہ سامنے آ گئی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق سات سالہ سفید شیرنی کی موت دل کی بیماری کے باعث ہوئی، جبکہ اس کا دل غیر معمولی طور پر بڑھا ہوا پایا گیا۔ واقعے کے بعد انتظامیہ نے مزید تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سفید شیرنی کی موت کسی بیرونی چوٹ یا حملے کے باعث نہیں بلکہ دل کے عارضے کی وجہ سے ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق شیرنی کا دل معمول سے زیادہ بڑا تھا، جسے موت کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

شیر باغ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شیرنی بظاہر مکمل طور پر صحت مند تھی اور اس میں بیماری کی کوئی واضح علامات موجود نہیں تھیں، تاہم اچانک موت کے بعد اس کا پوسٹ مارٹم کرایا گیا تاکہ اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے۔ انتظامیہ کے مطابق واقعے کی انکوائری بھی جاری ہے۔


انتظامیہ نے مزید بتایا کہ سفید شیرنی کی عمر تقریباً سات سال تھی اور اسے تین سال قبل لاہور سے بہاولپور کے شیر باغ منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ نایاب نسل کے جانوروں میں شامل تھی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز شیر باغ انتظامیہ نے اطلاع دی تھی کہ نایاب نسل کی سفید شیرنی اپنے پنجرے میں مردہ پائی گئی، جس کے بعد فوری طور پر پوسٹ مارٹم کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاکہ موت کی وجوہات معلوم کی جا سکیں۔ اب پوسٹ مارٹم رپورٹ میں دل کی بیماری کو موت کی وجہ قرار دیا گیا ہے جبکہ انکوائری کا عمل بدستور جاری ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے