لاہور(پنجاب پوسٹ)وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افیئرز محمد جنید انوار نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) کا دورہ کیا، جہاں صدر ایل سی سی آئی اور دیگر عہدیداروں نے ان کا استقبال کیا۔ تقریب میں سارک چیمبر آف کامرس کے سابق نائب صدر میاں انجم نثار، سابق نائب صدر انجینئر خالد عثمان اور صنعتکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے میری ٹائم سیکٹر کی کارکردگی، بندرگاہوں کی ترقی اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔
وفاقی وزیر محمد جنید انوار نے کہا کہ جون 2026 میں وزارت میری ٹائم افیئرز کا منافع 20 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بندرگاہوں کی استعداد بڑھا کر صنعتکاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ رواں عرصے میں 5 کروڑ ٹن سے زائد مال اتارا گیا جبکہ 21 ہزار سے زائد کنٹینرز ہینڈل کیے گئے۔ ان کے مطابق عالمی میری ٹائم رینکنگ میں بھی پاکستان کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب پوسٹ ایکسکلیوزو: صوبے کا نیا پراسیکوٹر جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کون ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ 220 ایکڑ قیمتی سرکاری اراضی قبضہ مافیا سے واگزار کرائی گئی، تقریباً 2200 غیر ضروری ملازمتیں ختم کی گئیں اور پورٹس کے اخراجات میں نمایاں کمی لائی گئی۔ کرایوں میں نظرثانی سے 3 ارب روپے اضافی آمدن حاصل ہوئی جبکہ پورٹ چارجز میں 50 فیصد تک کمی کر کے کاروباری برادری کو ریلیف دیا گیا۔
محمد جنید انوار نے کہا کہ جب انہوں نے وزارت کا چارج سنبھالا تو ادارے کی صورتحال تشویشناک تھی، تاہم اصلاحات کے نتیجے میں کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کی عالمی درجہ بندی 99 ویں نمبر سے بہتر ہو کر 70 ویں نمبر سے نیچے آ گئی جبکہ پورٹ قاسم دنیا کی پانچویں بڑی پورٹ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت اپنے ترقیاتی منصوبے اپنے وسائل سے مکمل کر رہی ہے اور تمام بندرگاہیں منافع کما رہی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مچھلی کی برآمدات بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں، رواں سال 500 ملین ڈالر کا ہدف بڑھ کر 565 ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے دوران ملکی سطح پر پٹرول کی قلت نہیں ہونے دی گئی اور قومی جہازوں کے ذریعے سپلائی کا سلسلہ برقرار رکھا گیا۔ عید کی تعطیلات میں بھی پورٹس پر 24 گھنٹے آپریشن جاری رکھا گیا جبکہ لینڈ بیسڈ ٹرمینل کے منصوبے کی ٹیکنیکل اسٹڈی بھی شروع کر دی گئی۔











