کوٹ لکھپت جیل سے پی ٹی آئی رہنماؤں کا خط، خط میں کیا مطالبہ کیا گیا ہے؟

لاہور(پنجاب پوسٹ)کوٹ لکھپت جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے چیف جسٹس پاکستان کو یاددہانی خط ارسال کرتے ہوئے 9 مئی مقدمات کا آزاد عدالتی جائزہ لینے کا مطالبہ کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ نے اپنے وکیل رانا مدثر عمر کے ذریعے چیف جسٹس پاکستان کو خط بھجوایا۔ خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 9 مئی کے مقدمات میں منصفانہ ٹرائل اور آئینی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

خط میں کہا گیا کہ سزاؤں کے حق میں آزاد اور قابلِ اعتماد شواہد پیش نہیں کیے گئے اور زیادہ تر انحصار پولیس اہلکاروں کے بیانات پر کیا گیا۔ رہنماؤں کے مطابق مقدمات میں آزاد گواہوں، سی سی ٹی وی فوٹیج، سیف سٹی ریکارڈ، جیوفینسنگ اور دیگر ڈیجیٹل شواہد عدالت کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔

پی ٹی آئی رہنماؤں نے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ 9 مئی مقدمات میں تحقیقات اور استغاثہ کے طریقہ کار کا آزاد عدالتی جائزہ لیا جائے اور سیاسی قیدیوں کی اپیلوں پر فوری سماعت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے غیر مصدقہ سرکاری گواہی کی بنیاد پر دی گئی سزاؤں کا آئینی معیار کے مطابق ازسرِنو جائزہ لینے کی بھی درخواست کی۔

خط میں مزید کہا گیا کہ عدالتی آزادی، غیر جانبداری اور شفاف ٹرائل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ رہنماؤں نے چیف جسٹس پاکستان سے بطور آئین کے محافظ اپنا کردار ادا کرنے اور سپریم کورٹ کے ذریعے عوام کا نظامِ انصاف پر اعتماد بحال کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کی اپیل بھی کی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے