لاہور (پنجاب پوسٹ) اچھرہ کے ایک ٹیوشن سینٹر سے 10 سالہ بچی کی لاش ملنے کے واقعے کی ابتدائی رپورٹ سامنے آ گئی ہے۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق فرانزک معائنے میں بچی کے ساتھ زیادتی کے شواہد نہیں ملے جبکہ لاش پر کسی بھی قسم کے تشدد کے نشانات بھی موجود نہیں تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے جائزے میں کسی مشتبہ شخص کے ٹیوشن سینٹر آنے کے ثبوت نہیں ملے۔ پولیس نے واش روم میں لٹکی رسی سے فنگر پرنٹس بھی حاصل کر لیے ہیں، جن کا فرانزک تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
پولیس بچی کی ذاتی زندگی سے متعلق مختلف پہلوؤں پر بھی تحقیقات کر رہی ہے۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق بچی کی بہن نے بیان دیا ہے کہ نعیمہ گزشتہ کئی روز سے خاموش رہتی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف زاویوں سے تحقیقات جاری ہیں اور حتمی حقائق فرانزک رپورٹس اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز لاہور کے علاقے اچھرہ میں قائم ایک ٹیوشن سینٹر کے واش روم سے ایک بچی کی لاش برآمد ہوئی تھی جس کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ بچی کو مبینہ طور پر کسی نے قتل کیا ہے










