لاہور (پنجاب پوسٹ) سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پنجاب میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کا نظام متعارف کرا دیا گیا ہے، جس کے تحت پہلی بار پیٹرول پمپس کی لائیو انسپیکشن، صنعتوں کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور تعمیراتی مقامات کی سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے پہلی مرتبہ پیٹرول اسٹیشنز کی لائیو انسپیکشن کا آغاز کیا ہے جبکہ قانون میں ترمیم کے بعد ڈیزل اور پیٹرول کے معیار کی باقاعدہ جانچ کی جا رہی ہے، کیونکہ فضائی آلودگی میں خراب ایندھن کا بڑا کردار ہے۔
مریم اورنگزیب کے مطابق پنجاب کے پانچ ہزار سے زائد ہسپتالوں کی میپنگ کر کے ان کی نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ انسنریٹرز نہ رکھنے والے ہسپتالوں کو وارننگز جاری کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہڈیارہ ڈرین کے اطراف قائم صنعتوں کو "پالیوٹر پیز پرنسپل” کے تحت ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس لگانے کا پابند بنایا جا رہا ہے تاکہ زہریلے کیمیکلز کھیتوں اور سبزیوں کو آلودہ نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ لاہور اور پنجاب بھر میں اب کوئی بھی سرکاری یا نجی تعمیراتی منصوبہ محکمہ تحفظ ماحول کی منظوری اور گرد و غبار روکنے کے انتظامات کے بغیر نہیں چل سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: جمہوری عمل کے استحکام کی جانب قدم، الیکشن کمیشن افسران کا تربیتی مطالعاتی دورہ
جاپان کے ماڈل کی طرز پر تعمیراتی مقامات پر پانی کے چھڑکاؤ کے نظام کو لازمی بنایا گیا ہے۔
سینئر صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ پنجاب کے تمام سیف سٹیز میں محکمہ تحفظ ماحول کے یونٹس قائم کر دیے گئے ہیں، جبکہ واٹس ایپ شکایتی نمبر 1373 اور داخلی احتسابی نظام بھی ہر وقت فعال ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ماضی میں سموگ سے نمٹنے کے لیے صرف عارضی اقدامات کیے جاتے تھے، تاہم اب پنجاب کے 13 ہزار سے زائد صنعتی یونٹس مکمل طور پر ڈیجیٹل، میپڈ اور کیو آر کوڈڈ ہیں۔ ان کی چمنیوں پر نصب مانیٹرنگ سسٹمز اور کیمروں کی لائیو فیڈ مسلسل دیکھی جا رہی ہے، اور کسی بھی یونٹ سے کالا دھواں خارج ہونے یا سسٹم بند ہونے کی صورت میں انوائرمنٹل پروٹیکشن فورس فوری کارروائی کرے گی۔








