راولپنڈی ( پنجاب پوسٹ) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی خوشحالی اورترقی کے دشمن دہشتگردی کے ان واقعات میں ملوث ہیں، افغان طالبان رجیم کے ساتھ مل کر پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ان دہشتگرد واقعات کے پیچھے ایک ماسٹر مائنڈ ہے، پاکستان کے دشمنوں کو پاکستان کی ترقی اور عزت سے مسئلہ ہے، پاکستان کے دشمن نہیں چاہتے ہے کہ بلوچستان میں ترقی ہو۔
یہ بھی پڑھیں : دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قومی قوت کے ساتھ جاری رہے گی: فیلڈ مارشل
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ 4 روز کے دوران صوبے میں دہشتگردی کے 3 بڑے واقعات رونما ہوئے، ڈی جی آئی ایس پی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ گزشتہ 4 روز میں بلوچستان میں دہشتگردی کے 3 بڑے واقعات ہوئے، سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذکرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں 54 دہشتگرد ہلاک ہوئے، 3 واقعات میں وطن عزیز کا دفاع کرتے ہوئے 42شہادتیں ہوئیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان میں سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے مذموم مقاصد کےلیےمعصوم شہریوں کو ہدف بنایا، بلوچستان کے بہادر عوام اورپولیس نے دلیری سے مقابلہ کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں نے زیارت میں پولیس چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا، زیارت میں شہید ہونے والے تمام پولیس اہلکار مقامی تھے، دہشتگردوں کے خلاف کارروائی میں پولیس کے 18 جوان شہید ہوئے، آج ہونے والے واقعے میں 14 دہشتگرد مارے گئے، سکیورٹی فورسز کے 14جوانوں نےجام شہادت نوش کیا، 3 واقعات میں وطن عزیز کا دفاع کرتے ہوئے 42 شہادتیں ہوئی ہیں۔
بدھ کو بلوچستان کی حالیہ سیکیورٹی صورتحال پر اہم پریس بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے خلاف سخت جوابی کارروائی عمل میں لائی۔ مانگی ڈیم کے علاقے میں کی جانے والی مؤثر کارروائی کے دوران ’فتنہ الخوارج‘ سے تعلق رکھنے والے 15 خارجیوں کو جہنم واصل کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ خضدار کے علاقے میں بھی فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے معصوم عوام کو نشانہ بنایا، لیکن فورسز کی بروقت کارروائی کے باعث دہشتگرد اپنے مذموم مقاصد میں ناکام ہو کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔













