لاہور (پنجاب پوسٹ ) لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی (LCWU) کی فضاؤں میں حال ہی میں جدت اور سیکھنے کا ایک نیا جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔ یونیورسٹی کے ڈائریکٹوریٹ آف یونیورسٹی ایڈوانسمنٹ اینڈ فنانشل ایڈ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے یو ایس میرٹ اینڈ نیڈز بیسڈ اسکالرشپ پروگرام کے اشتراک سے ایک شاندار دو روزہ ورکشاپ کا اہتمام کیا، جس کا عنوان تھا: "اسٹیئرنگ پروفیشنل پروڈکٹیویٹی اینڈ ورک پلیس سائنرجی”۔
یہ ورکشاپ صرف ایک روایتی تربیتی سیشن نہیں تھی، بلکہ یہ یونیورسٹی کی سینئر فیکلٹی اور انتظامی عملے کے لیے مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کا ایک پلیٹ فارم تھی۔ 6 اور 7 جولائی 2026 کو منعقدہ اس ورکشاپ کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ شرکاء کو جدید مینجمنٹ کی حکمت عملیوں اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے ان ٹولز سے لیس کیا جائے جو دفتری کارکردگی اور تعلیمی ماحول میں انقلاب لا سکتے ہیں۔
ورکشاپ کے پہلے روز کا آغاز ڈاکٹر شبانہ گل کی رہنمائی میں ہوا۔ انہوں نے نہایت عمدگی سے انتظامی امور اور کلاس روم کی حکمت عملیوں میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے اخلاقی اور بنیادی استعمال پر روشنی ڈالی، تاکہ اس ٹیکنالوجی کو ذمہ داری اور مہارت سے بروئے کار لایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا سوشل میڈیا پر شریف ایجوکیشن ٹرسٹ سکول سے متعلق دعوے بے بنیاد ہیں ؟
دوسرے دن کی نشستیں ڈاکٹر سلمیٰ نظر خان کے نام رہیں، جنہوں نے شرکاء کو یہ سکھایا کہ کس طرح AI کو تحقیق کی نئی راہیں تلاش کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، انہوں نے شرکاء کی نرم مہارتوں (soft skills) کو نکھارنے پر زور دیا، جن میں مذاکرات (negotiation)، اسٹریٹجک سوچ اور پاور میپنگ جیسی اہم صلاحیتیں شامل تھیں۔
دو دن کے اس علمی سفر کا اختتام ایک پروقار تقریب پر ہوا۔ یونیورسٹی کی وائس چانسلر نے شرکاء میں اسناد تقسیم کیں اور اس کامیاب اقدام پر HEC کے عملے اور پروگرام ڈائریکٹرز کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب کا اختتام اس وقت ایک خوشگوار یاد میں بدل گیا جب تمام شرکاء نے وائس چانسلر کے ساتھ ایک یادگاری تصویر بنوائی، جو اس ورکشاپ کی کامیابی اور باہمی تعاون کی عکاس تھی۔








