راولپنڈی (پنجاب پوسٹ) علیمہ خان کی ناقص حکمت عملی کے باعث بانی تحریک انصاف سے ملاقات کیلئے اڈیالہ کے باہر منگل وار احتجاج کا سلسلہ ہمیشہ کیلئے بند کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ آئندہ منگل سے صرف تین بہنیں عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ آئیں گی، جبکہ پارٹی کے دیگر رہنما اور کارکن اپنے اپنے علاقوں میں واپس جا کر بانی PTI کی ہدایات کے مطابق اسٹریٹ موومنٹ شروع کریں اور تحریک کی تیاری مکمل کریں۔
اس حوالے سے پنجاب پوسٹ نے پارٹی کے کئی اہم رہنماؤں سے بات کی ہے۔ جنہوں نے انکشاف کیا ہے کہ علیمہ خان کے غیر سیاسی رویے کے باعث بانی کی پارٹی قیادت اور اہلخانہ کیساتھ ملاقاتیں بند ہو چکی ہیں جبکہ بشری بی بی کی خاندان سے انکی ملاقاتیں ہورہی ہیں۔ پارٹی قیادت متعدد بار علیمہ خان کو پیغام پہنچا چکی ہے کہ اس رویے کے باعث بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں ہو پارہی۔ ابتدا میں علیمہ خان نے مزاحمت کی تجویز رکھی، جسے بادل نخواستہ قبول کیا گیا مگر اس حکمت عملی بے پارٹی کو شدید نقصان پہنچایا۔
پارٹی کے ایک ذریعے نے بنایا کہ علی امین گنڈہ پور کو ہٹانے اور سہیل آفریدی کو وزیر اعلیٰ بنانے میں علیمہ خان کا ہاتھ تھا مگر وزارتِ اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد سہیل آفریدی نے بھی کئی بار علیمہ خان سے اختلاف کیا۔ جس کے باعث علیمہ خان ان سے بھی خفہ ہیں اور انکے متبادل نام کی تلاش میں مصروف تھیں۔
پارٹی ذرائع کے مطابق جب علیمہ خان کے منصوبے کا قیادت کو علم ہوا تو علیمہ خان سے شکایت کی گئی ، جبکہ علیمہ خان کا موقف تھا کہ جو فرد اڈیالہ جیل نہیں آسکتا، اسے پارٹی میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔
پی ٹی آئی قیادت نے اس بار علیمہ خان کو دو ٹوک کہا ہے کہ آپکے بیانیے کے باعث پارٹی کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اس لئے اب آپ کا مزید ساتھ نہیں دیا جاسکتا۔ پارٹی کے اندر مبینہ بغاوت سے بچنے کیلئے اڈیالہ کی منگل وار یاترا کو ختم کردیا گیا













