لاہور(پنجاب پوسٹ )پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا ہے کہ قومی ٹیم کی قیادت کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے اور وہ ماضی کے تجربات سے سیکھتے ہوئے اس بار بہتر منصوبہ بندی اور مثبت سوچ کے ساتھ ٹیم کی قیادت کریں گے۔
پی سی بی پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بابر اعظم نے کہا کہ وقت کے ساتھ ایک کپتان میں پختگی اور واضح سوچ آتی ہے۔ انہوں نے بطور کپتان اپنے فیصلوں کا جائزہ لیا اور ان سے سیکھنے کی کوشش کی تاکہ مستقبل میں مزید بہتر انداز میں ذمہ داریاں نبھا سکیں۔
بابر اعظم نے کہا کہ ان کی توجہ تین بنیادی نکات، ڈسپلن، فٹنس اور پرفارمنس پر مرکوز ہے اور ان شعبوں میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان کھلاڑیوں کو مشکل وقت میں سپورٹ کرنا بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔
مزیدپڑھیں؛سی ایم پنجاب چیمپئن لیگ:ندا ڈار نے خواتین کرکٹ کے مستقبل سے متعلق کیا اہم اشارہ دے دیا؟
قومی کپتان نے کہا کہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی کا ریڈ بال کیمپ ٹیم کی تیاری کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوا، جبکہ ویسٹ انڈیز کا دورہ یقینی طور پر چیلنجنگ ہوگا، تاہم ٹیم نے اس کے لیے بھرپور تیاری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے والے پاکستانی کھلاڑیوں کا تجربہ بھی ٹیم کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
بابر اعظم نے مزید کہا کہ وہ مثبت تنقید کو ہمیشہ سنتے ہیں اور مفید مشوروں پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نوجوان کرکٹرز کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ خود پر یقین رکھیں، مسلسل محنت کریں اور اپنی روٹین برقرار رکھیں کیونکہ اچھے نتائج ایک ہفتے یا ایک ماہ میں نہیں آتے۔
انہوں نے کہا کہ شائقین کی توقعات ہمیشہ بلند ہوتی ہیں اور قومی ٹیم ان توقعات پر پورا اترنے کے لیے اپنی بھرپور کوشش کرے گی۔








