کیا لاہور ریلوے اسٹیشن حادثے کے انتظار میں ہے؟ خستہ ٹریک اور ووڈن سلیپرز نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

لاہور ( پنجاب پوسٹ ) ملک کے مصروف ترین ریلوے اسٹیشنز میں شمار ہونے والے لاہور ریلوے اسٹیشن پر مسافروں کی حفاظت سے متعلق سنگین خدشات سامنے آ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پلیٹ فارم نمبر 2 اور 4 پر نصب ووڈن سلیپرز خستہ حالی کا شکار ہیں، جبکہ مین لائن ٹریک کے متعدد مقامات پر نیٹ بولٹس غائب یا ڈھیلے ہونے کے باعث ٹریک کی مضبوطی پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ریلوے حکام کی جانب سے جدید سہولیات کے دعوؤں کے باوجود بنیادی انفراسٹرکچر کی ابتر حالت انتظامی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چند روز قبل پتوکی ریلوے اسٹیشن پر ٹریک کی خرابی کے باعث ٹرین ڈی ریل ہونے کا واقعہ پیش آیا تھا، مگر اس کے باوجود لاہور ریلوے اسٹیشن کے حساس ٹریک کی بروقت مرمت نہیں کی جا سکی۔ پلیٹ فارم نمبر 2 اور 4 پر خستہ حال ووڈن سلیپرز اور کمزور ٹریک نہ صرف مسافروں بلکہ ریلوے ملازمین میں بھی تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مین لائن ٹریک کے کئی حصے فوری مرمت کے متقاضی ہیں، تاہم مبینہ طور پر ڈی این ون اور پی ڈبلیو آئی کی غفلت کے باعث ٹریک مینٹیننس کا نظام مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہا۔ اس مبینہ غفلت پر تاحال کسی ذمہ دار افسر کے خلاف کارروائی بھی سامنے نہیں آ سکی، جس سے محکمانہ نگرانی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر خستہ حال ٹریک، ٹوٹے ہوئے ووڈن سلیپرز اور ڈھیلے بولٹس کی بروقت مرمت نہ کی گئی تو لاہور ریلوے اسٹیشن پر آپریشنل خطرات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق حفاظتی اقدامات میں تاخیر مستقبل میں کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے متعلقہ حکام کو فوری اور مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے