کنٹریکٹرز کو فائدہ، سرکاری خزانے کو نقصان؟ پی اے سی کا نوٹس

پنجاب اسمبلی:(پنجاب پوسٹ) میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون کے اجلاس میں محکمہ ہاؤسنگ، اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے ماتحت اداروں، خصوصاً ایل ڈی اے اور پی ایچ اے، میں سابق دورِ حکومت کے دوران مالی بے ضابطگیوں کا معاملہ زیر بحث آیا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون افتخار احمد چھچر نے کی۔
آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ مختلف مدات میں اب بھی 62 ملین روپے کی ریکوری باقی ہے، جبکہ راولپنڈی پی ایچ اے میں 3.1 ملین روپے سے زائد کی عدم ریکوری پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ کمیٹی نے کنٹریکٹرز اور ٹھیکیداروں کو مبینہ فائدہ پہنچانے، سائن بورڈز اور اشتہارات کی مد میں واجبات وصول نہ کرنے کے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔


چیئرمین افتخار احمد چھچر نے سیکرٹری ہاؤسنگ نور الامین مینگل کو فوری انکوائری مکمل کرنے، ذمہ داران کے خلاف کارروائی اور واجبات کی ریکوری یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ سیکرٹری ہاؤسنگ نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ ڈی جی ایل ڈی اے کے خلاف انکوائری اور ریکوری کا عمل مکمل کرکے چار ہفتوں میں رپورٹ پیش کی جائے گی۔اجلاس کے دوران چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ متعلقہ محکمہ خود ریکوری کیوں نہیں کرتا اور کمیٹی کی ہدایت کا انتظار کیوں کیا جاتا ہے۔

انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ مالیاتی نظام کو شفاف اور مؤثر بنایا جائے تاکہ سرکاری وسائل کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے