لاہور (پنجاب پوسٹ) پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن (پی ایچ سی) نے اتائیت کے خلاف صوبہ بھر میں جاری کریک ڈاؤن کے دوران جون 2026 میں مزید 646 غیر قانونی علاج گاہیں سیل کر دیں۔ یہ کارروائیاں کمیشن کے شعبۂ انسدادِ اتائیت کی جانب سے 2 ہزار 837 چھاپوں کے بعد عمل میں لائی گئیں۔
اعداد و شمار کے مطابق لاہور میں سب سے زیادہ 457 چھاپے مارے گئے، جہاں مستند معالجین کے بغیر چلنے والے 142 غیر قانونی مراکز کو سیل کیا گیا۔ فیصل آباد میں 123 چھاپوں کے دوران 32، سرگودھا میں 165 چھاپوں کے دوران 17 جبکہ راجن پور میں 144 علاجگاہوں کا معائنہ کرکے 27 غیر قانونی مراکز سیل کیے گئے۔
اسی طرح قصور میں 43، گوجرانوالہ 23، ملتان 7، بہاولپور 11، مظفرگڑھ 14، وہاڑی 12، پاکپتن 21 اور سیالکوٹ میں 23 غیر قانونی علاجگاہوں کو بھی سربمہر کیا گیا۔ کارروائیاں صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہیں بلکہ اٹک، بہاولنگر، بھکر، چنیوٹ، جھنگ اور دیگر اضلاع میں بھی متعدد غیر قانونی مراکز کے خلاف کارروائیاں کی گئیں، جبکہ دیہی علاقوں میں بھی کریک ڈاؤن کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کا نیا ادارہ، کیا سرکاری اثاثوں کا نظام بدل جائے گا؟
پی ایچ سی کی ٹیموں نے 148 ایسے مراکز کی بھی نشاندہی کی جہاں اتائیت کا کاروبار یا تو دوسری جگہ منتقل ہو چکا تھا یا انہیں کسی اور کاروبار میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ مزید ایک ہزار 865 علاجگاہوں کو، جہاں دورے کے وقت مستند طبی عملہ موجود تھا، مسلسل نگرانی کی فہرست میں شامل کر لیا گیا تاکہ وہاں قانونی اور محفوظ طبی خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
ترجمان پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے مطابق اتائیت کے خلاف مہم کے آغاز سے اب تک کمیشن کی فیلڈ ٹیمیں 2 لاکھ 52 ہزار 186 صحت کے مراکز کا معائنہ کر چکی ہیں۔ اس دوران 72 ہزار 700 سے زائد غیر قانونی مراکز سیل کیے جا چکے ہیں، تقریباً 32 ہزار اتائی اپنا کاروبار ترک کر چکے ہیں، جبکہ 45 ہزار 500 سے زائد مراکز کو مسلسل نگرانی میں رکھا گیا ہے۔









