لاہور : (زروا خان سدوزئی ) غیر ملکی خواتین پرمبینہ زیادتی اور بلیک میلنگ کیس میں بڑا موڑ آگیا ہے ۔ پنجاب پوسٹ کو دستیاب ایف آئی آر ریکارڈمیں نئے انکشافات سامنے آئے ہیں ۔ مبینہ بوس وحید طاہر اور ثاقب چدھڑ کا تعلق بھی سامنے آگیا ہے ۔ یہ وہی گینگ ہے جو 8 سال قبل گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری میں پکڑا گیا ۔
پنجاب پوسٹ کے پاس موجود 24 ستمبر 2023 کو پنجاب پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر کے مطابق گینگ کا اہم فرد ڈاکٹر فواد ممتاز خان اپنے اقبالی بیان میں غیرقانونی آپریشن تھیٹر چلا رہا تھا جبکہ پولیس نےآپریشن تھیٹر پر چھاپے مارنے جارہی تھی تو تو اسی دوران ڈاکٹرکے ساتھیوں نوید ، عثمان اور وحید طاہر نے پولیس پارٹی پر حملہ کرکے ڈاکٹر کو چھڑوا لیا۔
سوشل میڈیا پر ثاقب چدھڑ کے پرانے ویڈیو بیان کا جائزہ لیا گیا ۔ جس میں وہ خود تسلیم کر رہے ہیں کہ ڈاکٹر فواد ممتاز ان کے کزن ہیں ۔کہانی یہاں پر ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ دھوکا دہی سے شہریوں کے گردے نکالے جانے کے الزامات پر بھی مبینہ بوس پر مقدمات درج ہوچکے ہیں ۔
غیر ملکی خواتین کو مبینہ بلیک میلنگ اور زیادتی کیس میں بوس کا کردار ادا کرنے والے وحید طاہر کیخلاف درج مقدمات کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں : غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی کیس، تین ملزمان پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر
2020 میں درج ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے لاہور کے شہری کو نوکری کا جھانسہ دیکر بلایا ، بعدازاں اسکے اہلخانہ کو لڑکے کی لاش ملی ۔ لڑکے کے بھائی نے الزام عائد کیا کہ اسکا گردہ نکال لیا گیا تھا۔ اسی طرح ایک اور مقدمہ میں پاکپتن کے رہائشی شہری کا بھی صحت کارڈ پر علاج کے بہانے آپریشن کے ذریعے گردہ نکال لیا گیا۔
پنجاب پوسٹ کے پاس دستیاب ایف آئی آر ریکارڈ کے مطابق مبینہ بوس کیخلاف 10 ایف آ ئی آر درج ہیں جن میں سے 3 میں مدعی 3ایف آئی آر میں گواہ اور 4 میں ملزم کے طور پہ درج ہے ۔
واضح رہے کہ اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشن فیصل کامران نے مبینہ بوس کا نام وحید بتایا تھا اور اس پر درج مقدمات کے بارے میں بھی انکشاف کیا تھا۔








