لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور میں غیر ملکی خواتین کیس میں مبینہ بوس کا حوالے سے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بوس آئس کا نشہ کرتا تھا جبکہ گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری کا دھندہ بھی کرتا تھا۔
تفصیلات کے مطابق باس کا کریکٹر ادا کرنیوالے ملزم کا مکمل نام میاں وحید طاہر جبکہ تعلق اوکاڑہ کے علاقہ عزیز پارک سے ہے۔ ملزم باس وحید کی فیملی اوکاڑہ میں ہے جبکہ ملزم خود لاہور میں رہتا ہے۔ملزم لاہور میں مختلف جگہوں پر سکونت تبدیل کر کے رہائش پذیر ہوتا ہے۔ مبینہ باس کیخلاف گردوں کی پیوند کاری،قتل پولیس مقابلے سمیت متعدد مقدمات درج ہیں۔ ملزم وحید طاہر عرصہ دراز سے گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری کا مکروہ دھندہ میں ملوث رہا ہے۔ ملزم آئس کا نشہ بھی کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی کیس، تین ملزمان پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر
ملزم نے لڑکیوں کو پندرہ لاکھ ڈالر کی عدم ادائیگی کی صورت میں تمام انسانی اعضاء فروخت کرنے کی بھی دھمکیاں دیتا رہا۔ ذرائع کے مطابق دونوں غیر ملکی خواتین پر تشدد کرنیوالے افراد ملزم وحید طاہر کے گن مین تھے۔
واضح رہے کہ اتوار کی شام لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے کیس میں سامنے والے مبینہ باس کے نام کے حوالے سے میڈیا کو آگاہ کیا تھا








