لاہور ( پنجاب پوسٹ ) پنجاب حکومت نے صحت کے شعبے میں ایک بڑے اور منفرد اقدام کے تحت صوبے کو ملک کا پہلا خطہ بنا دیا ہے جہاں شہریوں کی صحت اور آبادی سے متعلق معلومات کی ڈیجیٹل میپنگ تقریباً مکمل ہونے جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں بتایا گیا کہ "کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز پروگرام” کے تحت پنجاب کی تاریخ کی سب سے بڑی ڈیجیٹل ہیلتھ اینڈ ڈیموگرافک مردم شماری آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے کے 18 اضلاع میں 85 فیصد سے زائد آبادی کی ہیلتھ اینڈ ڈیموگرافک پروفائلنگ مکمل ہو چکی ہے، جبکہ پانچ اضلاع میں یہ عمل سو فیصد اور مزید پانچ اضلاع میں 95 فیصد تک مکمل کیا جا چکا ہے۔ اب تک تقریباً 9 کروڑ 43 لاکھ شہریوں کا صحت، رہائش، معاشی حالات، پینے کے پانی، معذوری اور طرزِ زندگی سے متعلق ڈیٹا ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کیا جا چکا ہے۔ اس کے ساتھ پنجاب کے ہر گھر کو ڈیجیٹل میپنگ کے ذریعے ایک منفرد یونیک آئی ڈی بھی جاری کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق 14 ہزار 300 کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز نے گھر گھر جا کر یہ معلومات اکٹھی کیں، جبکہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے خود اس منصوبے کے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مستقبل میں صحت سے متعلق تمام پالیسیاں، ادویات کی فراہمی اور طبی سہولیات اسی مستند ڈیجیٹل ڈیٹا کی بنیاد پر فراہم کی جائیں گی تاکہ وسائل درست مقامات پر استعمال کیے جا سکیں۔
اجلاس میں دل کے مریضوں کے لیے بھی اہم فیصلے کیے گئے۔ وزیراعلیٰ نے دسمبر تک 16 اضلاع میں جدید کارڈیک کیتھ لیبز فعال کرنے کی ہدایت دی، جن میں سے پانچ پہلے ہی کام شروع کر چکی ہیں، جبکہ بھکر، بہاولنگر اور لیہ میں بھی جلد یہ سہولت فراہم کی جائے گی۔ جولائی کے اختتام تک مزید آٹھ اضلاع میں کیتھ لیبز مکمل کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : چلڈرن اسپتال میں ایسا کیا ہوا کہ 28 سالہ شہری نے تیسری منزل سے چھلانگ لگا دی؟
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے مریضوں کو ادویات کی ہوم ڈیلیوری کے نظام کو مزید مؤثر بنانے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لیے جامع پاپولیشن مہم شروع کرنے اور "مریم نواز صحت مند گھرانہ” پروگرام پر کام تیز کرنے کی بھی ہدایت دی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ شوگر، بلڈ پریشر، ہیپاٹائٹس، کینسر اور غذائی قلت جیسے امراض میں مبتلا شہریوں کا ڈیجیٹل فالو اپ بھی کیا جائے گا تاکہ بروقت علاج ممکن بنایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ مستند ڈیٹا کے بغیر مؤثر پالیسی سازی ممکن نہیں، اور اب صحت کی سہولیات اندازوں کے بجائے حقیقی اعداد و شمار کی بنیاد پر فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کے شہریوں کو غیر ضروری مشکلات سے بچانے کے لیے انہیں براہِ راست ہیلتھ کیئر سینٹرز سے منسلک کیا جائے گا تاکہ علاج تک رسائی مزید آسان اور مؤثر بنائی جا سکے۔
اجلاس میں پنجاب کے 19 اضلاع میں پولیو کے ماحولیاتی سیمپلز منفی آنے پر اطمینان کا اظہار کیا گیا، جبکہ وزیراعلیٰ نے پولیو کے خاتمے کے لیے خدمات انجام دینے والی ٹیموں کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔









