گونگی بیٹی کا علاج یہاں نہیں ہوسکتا ، ڈاکٹرز کا انکار ، والد نے چلڈرن ہسپتال کی چھت سے چھلانگ لگا دی

لاہور: (پنجاب پوسٹ)لاہور کے چلڈرن اسپتال میں زیرِ علاج بیٹی کے وارڈ سے مبینہ طور پر زبردستی نکالے جانے پر 28 سالہ شہری عمران صابر نے تیسری منزل سے چھلانگ لگا دی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گیا۔

پولیس کے مطابق عمران صابر کی چار سالہ گونگی بیٹی چلڈرن اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔ مبینہ طور پر سیکیورٹی گارڈز اور وارڈ عملے نے انہیں وارڈ سے باہر جانے کا کہا، جس پر وہ دل برداشتہ ہو گئے اور تیسری منزل سے چھلانگ لگا دی۔ واقعے کے نتیجے میں عمران کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔

ریسکیو اہلکاروں نے زخمی عمران کو فوری طور پر جنرل اسپتال منتقل کیا، جہاں اسپتال انتظامیہ کے مطابق انہیں سرجیکل ایمرجنسی میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق متاثرہ شہری نے وارڈ بوائے کے مبینہ رویے پر احتجاج کیا تھا۔ ان کا مؤقف ہے کہ عملے کی مبینہ بدسلوکی سے دلبرداشتہ ہو کر انہوں نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔ متاثرہ شہری نے واقعے کا نوٹس لینے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

دوسری جانب چلڈرن اسپتال انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسپتال میں ایک مریض کے ساتھ صرف ایک تیماردار رکھنے کی پالیسی نافذ ہے تاکہ رش پر قابو پا کر مریضوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انتظامیہ کے مطابق زنانہ وارڈ میں مردوں کو قیام کی اجازت نہیں، جبکہ واقعے کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے۔

اسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں اور حقائق سامنے آنے کے بعد مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے