لاہور ( پنجاب پوسٹ ) اپنا گھر بنانے کے خواہشمند افراد کے لیے وفاقی حکومت نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے وزیراعظم اپنا گھر اسکیم کی رسائی مزید وسیع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ حکومت نے پہلی مرتبہ نان بینکنگ فنانس کمپنیوں (NBFCs) کو بھی اس اسکیم کا حصہ بنانے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد ایسے افراد بھی قرض کے لیے درخواست دے سکیں گے جو روایتی بینک اکاؤنٹ نہیں رکھتے۔
نئے فیصلے کے تحت اسکیم صرف بینکوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ایس ای سی پی کے تحت رجسٹرڈ نان بینکنگ ہاؤسنگ فنانس اور انویسٹمنٹ فنانس کمپنیاں بھی شہریوں کو گھر کی تعمیر یا خریداری کے لیے ایک کروڑ روپے تک قرض فراہم کر سکیں گی۔ اس کے علاوہ مائیکروفنانس کمپنیاں مستحق افراد کو 50 لاکھ روپے تک قرض دینے کی مجاز ہوں گی، جس سے کم آمدن والے طبقے کے لیے بھی گھر کا خواب حقیقت کے قریب آ جائے گا۔
حکام کے مطابق اسکیم کے تحت پہلے دس سال کے لیے قرض صرف 5 فیصد شرح منافع پر دستیاب ہوگا، تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ہاؤسنگ فنانس کو آسان، سستا اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کی پہنچ میں لانا ہے۔
مزید برآں، نان بینکنگ فنانس کمپنیوں کا نیٹ ورک ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور دور دراز علاقوں تک پھیلا ہوا ہے، جس سے ان افراد کو بھی سہولت ملے گی جو روایتی بینکاری نظام تک آسان رسائی نہیں رکھتے۔ اسی تناظر میں حکومت نے این بی ایف سیز کے لیے ہاؤسنگ فنانس کا نیا فریم ورک بھی جاری کر دیا ہے، جس کے تحت یہ کمپنیاں بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کے اشتراک سے بھی قرض فراہم کر سکیں گی۔
حکومت کو توقع ہے کہ اس فیصلے سے وزیراعظم اپنا گھر اسکیم کی رسائی میں نمایاں اضافہ ہوگا، ہاؤسنگ سیکٹر کو فروغ ملے گا اور ملک بھر میں لاکھوں افراد کے لیے اپنے ذاتی گھر کا خواب پورا کرنا پہلے سے زیادہ آسان ہو جائے گا۔














