پرائیویٹ سکولوں کی موجیں ختم، کن اداروں پر 40 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا؟

لاہور ( پنجاب پوسٹ) وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی ہدایت پر پنجاب بھر میں غیر رجسٹرڈ نجی سکولوں اور اکیڈمیوں کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے، جبکہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز نے غیر رجسٹرڈ سکولوں اور اکیڈمیوں کو نوٹس جاری کرنا شروع کر دیے ہیں۔

وزیر تعلیم کے سخت احکامات کے بعد ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی نے ایک ہی دن میں 744 تعلیمی اداروں کو نوٹس جاری کیے۔ غیر رجسٹرڈ سکول اور اکیڈمی مالکان کو تین روز کے اندر رجسٹریشن کرانے کی حتمی ہدایت کی گئی ہے۔

رانا سکندر حیات نے کہا کہ اب کوئی سکول رجسٹریشن کے بغیر نہیں چلے گا اور نجی سکولوں کی موجیں ختم ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ طلباء کی سیفٹی اولین ترجیح ہے، پہلے جان کی حفاظت، پھر تعلیم کی اجازت دی جائے گی۔

وزیر تعلیم کے مطابق خلاف ورزی پر زیرو ٹالیرنس کی پالیسی کے تحت سخت قانونی کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز آرڈیننس 1984 کے تحت رجسٹریشن ہر نجی تعلیمی ادارے کے لیے لازمی ہے، جبکہ رجسٹریشن کے بغیر تعلیمی ادارہ چلانا قانوناً جرم ہے اور ذمہ دار افراد سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔

رانا سکندر حیات نے کہا کہ غیر رجسٹرڈ ادارے چلانے پر 3 لاکھ سے 40 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ ایجوکیشن اتھارٹی کے ریکارڈ کے مطابق سینکڑوں نجی سکول تاحال غیر رجسٹرڈ ہیں، اس لیے تمام غیر رجسٹرڈ تعلیمی ادارے فوری طور پر رجسٹریشن کے لیے درخواست جمع کرائیں۔

انہوں نے کہا کہ نوٹس کے مطابق سکولوں اور اکیڈمیوں کو رجسٹریشن کروانے کے لیے تین روز کی حتمی مہلت دی گئی ہے، جبکہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز تین روز میں رجسٹریشن نہ کرانے والے اداروں کے خلاف پنجاب پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز آرڈیننس 1984 کے تحت سخت کارروائی کریں گی۔

وزیر تعلیم نے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز کو احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانے اور متعلقہ افسران کو کارروائی مکمل کرکے عملدرآمد رپورٹ جمع کرانے کی بھی ہدایت کی۔

رانا سکندر حیات نے مزید کہا کہ بلڈنگ فٹنس سرٹیفکیٹ بھی سکولوں کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے اور اس کے بغیر کوئی تعلیمی ادارہ نہیں کھل سکے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام تعلیمی ادارے فٹنس سرٹیفکیٹ کا حصول یقینی بنائیں جبکہ ایجوکیشن اتھارٹیز اس کی لازمی جانچ کریں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے