760 اکیڈمیز سیل ، آخر پنجاب حکومت نے اتنا بڑا ایکشن کیوں لیا ؟

لاہور ( پنجاب پوسٹ ) کاہنہ اور باغبانپورہ میں پیش آنے والے افسوسناک حادثات کے بعد پنجاب حکومت نے نجی تعلیمی اداروں، اکیڈمیز اور ٹیوشن سینٹرز کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ حالیہ حادثہ کسی رجسٹرڈ اسکول میں نہیں بلکہ ایک نئی خریدی گئی عمارت میں پیش آیا، جہاں اسکول انتظامیہ نے بغیر اجازت توسیع کی اور غیر قانونی طور پر سمر کیمپ بھی چلا رہی تھی۔

رانا سکندر حیات کے مطابق عمارت کا لینٹر صرف پانچ دن بعد ہی کھول دیا گیا جبکہ تعمیراتی اصولوں کے مطابق اسے کم از کم 14 دن بعد کھولا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے بتایا کہ متعلقہ اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر نے اسکول کا دورہ بھی کیا تھا تاہم انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا کہ عمارت کی مالکن حج پر ہیں، جس کے باعث مزید پیش رفت نہ ہو سکی۔ وزیر تعلیم نے اس واقعے کو سو فیصد مالکان کی غفلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ لاہور میں قائم تقریباً 14 ہزار اکیڈمیز اور ٹیوشن سینٹرز کے خلاف آج سے بھرپور آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ پہلے مرحلے میں 760 غیر رجسٹرڈ اکیڈمیز کو سیل کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے بھر میں 13 ہزار ایسی عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے، اور جب تک یہ سرٹیفکیٹس جمع نہیں کرائے جاتے، ان عمارتوں میں کسی بھی قسم کی تدریسی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وزیر تعلیم نے کہا کہ پنجاب بھر کے تمام اضلاع کو واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر کسی بھی تعلیمی ادارے میں تدریسی عمل شروع نہیں ہوگا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ صوبے میں تقریباً 40 فیصد اسکول غیر رجسٹرڈ ہیں، لیکن ماضی میں کسی نے ان کی نشاندہی یا رپورٹنگ نہیں کی، جس کی وجہ سے ایسے مسائل مسلسل جنم لیتے رہے۔

رانا سکندر حیات نے بتایا کہ سانحے کے بعد فوری طور پر متعلقہ دونوں ڈپٹی ایجوکیشن افسران اور دونوں اسسٹنٹ ایجوکیشن افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے تاکہ ذمہ داری کا تعین شفاف انداز میں کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ 30 جون تک 90 فیصد غیر قانونی سمر کیمپس بند کرانے کو یقینی بنایا گیا تھا، تاہم بعض ادارے اس کے باوجود غیر قانونی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔

میڈیا سے گفتگو کے دوران وزیر تعلیم جذباتی بھی دکھائی دیے۔ انہوں نے کہا کہ اس افسوسناک واقعے پر وہ دلی طور پر رنجیدہ ہیں اور اگر کہیں بھی محکمانہ کوتاہی ثابت ہوئی تو ہر سطح پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ انہوں نے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو صرف رجسٹرڈ اور محفوظ تعلیمی اداروں میں بھیجیں اور عمارتوں کی قانونی حیثیت اور حفاظتی انتظامات کا ضرور جائزہ لیں۔

آخر میں رانا سکندر حیات نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف کارروائی کرنا نہیں بلکہ مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام ہے۔ ان کے مطابق اصل توجہ غیر محفوظ اور غیر رجسٹرڈ تعلیمی اداروں کے خاتمے، عمارتوں کی فٹنس کو یقینی بنانے اور طلبہ کو محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرنے پر مرکوز ہے، جبکہ وہ اس معاملے میں ہر قسم کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے