(پنجاب پوسٹ) پنجاب میں پولیس حراست سے ملزمان کے فرار ہونے کے واقعات تشویش کا باعث بن گئے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اب تک 15 اضلاع میں پولیس حراست سے فرار کے 32 واقعات پیش آئے، جن میں قتل، اقدامِ قتل، ڈکیتی، منشیات فروشی اور دیگر سنگین مقدمات میں ملوث 57 ملزمان فرار ہوئے۔ ان میں سے 41 ملزمان، جن میں مقابلوں میں مارے جانے والے 5 ملزمان بھی شامل ہیں، دوبارہ گرفتار کیے جا چکے ہیں، جبکہ 16 ملزمان تاحال مفرور ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق پولیس حراست سے سب سے زیادہ 14 ملزمان راولپنڈی سے فرار ہوئے، جن میں سے 5 اب بھی گرفتار نہیں ہو سکے۔ سیالکوٹ میں 13 ملزمان فرار ہوئے، جن میں سے 2 تاحال مفرور ہیں، جبکہ بہاولنگر میں 6 ملزمان فرار ہوئے جن میں سے 5 ابھی تک پولیس کی گرفت سے باہر ہیں۔ لاہور میں فرار ہونے والے 4 ملزمان میں سے 2 کا بھی ابھی تک سراغ نہیں لگایا جا سکا۔
پولیس ذرائع کے مطابق آئی جی پنجاب نے راولپنڈی، بہاولنگر، لاہور اور سیالکوٹ میں مفرور ملزمان کی جلد گرفتاری یقینی بنانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ تمام آر پی اوز کو قیدیوں سے نمٹنے کے طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لینے، حفاظتی انتظامات مزید مؤثر بنانے اور حراستی ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہر فرار کے واقعے میں ذمہ دار اہلکاروں کا تعین کرنے اور باقی تمام مفرور ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری یقینی بنانے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔









