لاہور ( پنجاب پوسٹ) پاکستان الیکٹرنک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی(پیمرا) کی درخواست پر کونسل آف کمپلینٹس کا اجلاس 30 جون کو لاہور میں منعقد ہوا جس میں جیو نیوز کے نمائندوں نے اپنے وکلاء کے ہمراہ شرکت کی۔ سماعت کے دوران چینل انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ متنازع نشریات کے ذمہ دار افراد کو برطرف کر دیا گیا ہے، مواد تمام ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے ہٹا دیا گیا ہے اور آئندہ مذہبی حساس نوعیت کے پروگراموں کی جانچ کے لیے ایک عالم دین کو ادارتی کمیٹی میں شامل کیا جا رہا ہے۔ فریقین کا مؤقف سننے کے بعد کونسل نے فیصلہ کیا کہ حتمی سفارشات مرتب کرنے سے قبل معاملے پر اسلامی نظریاتی کونسل کی باضابطہ رائے حاصل کی جائے۔
پیمرا نے 10 محرم الحرام کو نشر ہونے والے جیو نیوز کے پروگرام ‘سفر عشق’ میں مقدس ہستیوں کی متنازع عکاسی پر کارروائی کرتے ہوئے اس معاملے کو مرحلہ وار قانونی اور ادارہ جاتی طریقہ کار کے تحت آگے بڑھایا ہے۔
پیمرا کے مطابق متنازع مواد نشر ہونے کے بعد اتھارٹی نے فوری نوٹس لیتے ہوئے 26 جون کو جیو نیوز کا لائسنس 15 روز کے لیے معطل کر دیا۔ اتھارٹی کا مؤقف تھا کہ متعلقہ پروگرام میں پیش کی گئی تصویر کشی نہ صرف لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی تھی بلکہ مذہبی، معاشرتی اور ثقافتی اقدار سے بھی متصادم تھی جس سے عوام کے مذہبی جذبات مجروح ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔
اس کے بعد جیو نیوز نے متنازع مواد پر معذرت کرتے ہوئے اسے اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے ہٹا دیا اور داخلی سطح پر تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا۔ پیمرا نے مزید کارروائی کے لیے یہ معاملہ کونسل آف کمپلینٹس کو بھجوا دیا جس کا اجلاس 30 جون کو لاہور میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں جیو نیوز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اپنے قانونی نمائندوں کے ہمراہ پیش ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے سے متعلق ذمہ دار افراد کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ مستقبل میں مذہبی حساس نوعیت کے مواد کی جانچ کے لیے ادارتی کمیٹی میں ایک عالم دین کو شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
کونسل آف کمپلینٹس نے چینل کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا کہ حتمی سفارشات مرتب کرنے سے قبل معاملے پر اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے حاصل کی جائے۔ اس سلسلے میں کونسل سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ 8 جولائی تک اپنی سفارشات اور قانونی و شرعی رائے فراہم کرے تاکہ اس کی روشنی میں آئندہ کارروائی کا تعین کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اس معاملے میں ابتدائی نوٹس، لائسنس کی معطلی، کونسل آف کمپلینٹس کی سماعت اور بعد ازاں اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے طلب کرنے کا سلسلہ اس بات کی مثال ہے کہ مذہبی حساسیت سے متعلق تنازعات کو ادارہ جاتی اور آئینی طریقہ کار کے تحت نمٹایا جا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں بروقت اور شفاف کارروائی نہ صرف عوامی اعتماد کو مضبوط بناتی ہے بلکہ ممکنہ احتجاج یا انتشار کے امکانات کو بھی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔










