پنجاب میں زرعی شعبے کا بڑا انقلاب، 10 لاکھ کسان کارڈز کا ہدف تکمیل کے قریب

لاہور(پنجاب پوسٹ )وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت محکمہ زراعت کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں کسان کارڈ پروگرام، زرعی میکانائزیشن، جدید آبپاشی منصوبوں اور مختلف زرعی ترقیاتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں اب تک 9 لاکھ کسان کارڈز جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ 31 اگست 2026 تک 10 لاکھ کسان کارڈز کی فراہمی کا ہدف مکمل کر لیا جائے گا۔ کسانوں کو اب تک 360 ارب روپے کے بلا سود قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں، جن کی ریکوری کی شرح 99 فیصد رہی۔ قرضوں کا زیادہ تر حصہ کھاد کی خریداری پر استعمال کیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ گرین ٹریکٹر اسکیم کے تحت اب تک 24 ہزار ٹریکٹرز کسانوں کے حوالے کیے جا چکے ہیں جبکہ تین مراحل میں مجموعی طور پر 34 ہزار ٹریکٹرز تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ حکومت ہر ٹریکٹر پر 10 لاکھ روپے کی سبسڈی دے رہی ہے، جبکہ 99.7 فیصد ٹریکٹرز کی فیلڈ میں موجودگی کی تصدیق بھی کی جا چکی ہے۔


بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ زرعی شعبے کی جدید خطوط پر ترقی کے لیے 10 نئے ماڈل ایگری مالز قائم کیے جائیں گے، 2 ہزار جدید زرعی مشینیں فراہم کی جائیں گی اور اگلے مرحلے میں مزید 1500 ایگری گریجویٹس کو انٹرن شپ پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔
اجلاس میں پوٹھوہار ٹرانسفارمیشن پلان اور تھل ٹرانسفارمیشن پروگرام کی بھی منظوری دی گئی۔
سموگ کے تدارک کے لیے اب تک 5 ہزار سپر سیڈرز تقسیم کیے جا چکے ہیں جبکہ اکتوبر 2026 تک یہ تعداد 12 ہزار تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب حکومت نے کسانوں کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانے کے لیے تاریخی اقدامات کیے ہیں اور زرعی شعبے کی ترقی اور کسانوں کی خوشحالی کے لیے یہ سفر مزید تیزی سے جاری رکھا جائے گا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے