لاہور:(پنجاب پوسٹ) کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) پنجاب کے ترجمان نے انسدادِ اغواء برائے تاوان سیل لاہور کی ایک سالہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی، جس کے مطابق سیل نے گزشتہ ایک سال کے دوران اغواء، گمشدگی یا گھروں سے بھاگ جانے والے 178 معصوم بچوں کو تلاش کرکے بحفاظت ان کے والدین کے حوالے کیا۔ اس کامیاب کارکردگی نے درجنوں خاندانوں کی خوشیاں واپس لوٹا دیں اور والدین کی بے چینی کو اطمینان میں بدل دیا۔
رپورٹ کے مطابق سی سی ڈی کی خصوصی ٹیموں نے بچوں کو داتا دربار، لاہور ریلوے اسٹیشن، مختلف بس اڈوں، عوامی مقامات اور شہر کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشنز اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر بازیاب کرایا۔ ان بچوں کے اغواء یا گمشدگی کے مقدمات لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع کے تھانوں میں درج تھے، جبکہ کئی بچے گھریلو ناچاقیوں کے باعث گھر چھوڑ کر چلے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:ہوٹل میں بیٹھ کر حکومت کو گالیاں کیوں دیں؟ رحیم یار خان میں شہری پر مقدمہ درج ہوگیا
بازیاب ہونے والے بچوں کا تعلق لاہور، شیخوپورہ، گوجرانوالہ، قصور اور پنجاب کے دیگر شہروں سے تھا۔ کارروائیوں کے دوران بچوں کے اغواء میں ملوث متعدد ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جن کے خلاف قانون کے مطابق سخت مقدمات درج کرکے مزید تفتیش جاری ہے۔ترجمان کے مطابق صرف بچوں کی بازیابی تک کارروائی محدود نہیں رہی بلکہ ہر بچے کی ذہنی اور جذباتی بحالی کو بھی یقینی بنایا گیا۔ بازیاب بچوں کی ماہر سائیکالوجسٹس سے کونسلنگ کروائی گئی، جبکہ منشیات یا جنسی زیادتی کا شکار بچوں کو فوری طبی امداد، نفسیاتی معاونت اور بحالی کی سہولیات بھی فراہم کی گئیں۔سی سی ڈی کا انسدادِ اغواء برائے تاوان سیل ایدھی سینٹرز، چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو اور دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون سے بچوں کی بازیابی، تحفظ اور بحالی کے لیے مشترکہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ ہر متاثرہ بچے کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
ترجمان نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بچوں کے اغواء، جنسی استحصال، چائلڈ ٹریفکنگ، حراسمنٹ، جبری مشقت اور بچوں سے متعلق کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کے مطابق بچوں سے زیادتی، استحصال، چائلڈ لیبر اور بچوں کے خلاف ہر قسم کا جرم ریڈ لائن ہے، اور ایسے جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔














