لاہور ہائیکورٹ: تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ کے لیے سخت احکامات

لاہور ( پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ سے متعلق ایک اہم فیصلے میں پنجاب حکومت کو صوبے بھر کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں جامع اصلاحات نافذ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

عدالت نے ہدایت کی ہے کہ تمام تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کی پولیس اور نادرا ریکارڈ کے ذریعے مکمل اسکریننگ کی جائے تاکہ کسی بھی مشکوک یا مجرمانہ پس منظر کے حامل افراد کو بچوں کے قریب آنے سے روکا جا سکے۔

عدالتی حکم کے مطابق ملازمت کے وقت پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ اور خصوصی تربیت کو لازمی قرار دیا جائے، جبکہ تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے اور ایک مؤثر خفیہ شکایتی نظام قائم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تعلیمی اداروں میں پیش آنے والے ایسے واقعات بچوں کے تحفظ کے موجودہ نظام پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں، لہٰذا حکومت پنجاب فوری طور پر اسکولوں کے حفاظتی پروٹوکولز کا ازسرنو جائزہ لے اور جامع حفاظتی اقدامات یقینی بنائے۔

یہ حکم اس کیس کی سماعت کے دوران دیا گیا جس میں ایک استاد پر 12 سالہ طالب علم سے مبینہ زیادتی کا الزام تھا۔ عدالت نے ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ تفتیشی مواد انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

تفتیشی رپورٹ کے مطابق ملزم کے موبائل سے قابل اعتراض مواد اور متعدد فحش ویڈیوز بھی برآمد ہوئیں، جبکہ فرانزک رپورٹ میں ویڈیو میں کسی قسم کی ایڈیٹنگ کے شواہد نہیں ملے۔

عدالت نے مزید ہدایت کی کہ وفاقی وزارت قانون تعلیمی اداروں میں جنسی جرائم میں سزا یافتہ افراد کے لیے ایک مرکزی رجسٹر تک محفوظ رسائی کا نظام وضع کرے تاکہ بھرتی کے وقت امیدواروں کی مکمل جانچ ممکن ہو سکے۔

فیصلے کی نقول چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری سکول ایجوکیشن، آئی جی پنجاب اور وفاقی وزارت قانون کو بھجوانے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے