سرگودھا: کمسن بچے کو زیادتی کے بعد زندہ دفن کرنے کی کوشش، مرکزی ملزم کیسے گرفتار ہوا؟


سرگودھا:(پنجاب پوسٹ) تھانہ جھال چکیاں کے علاقے ماڑی لک کے قریب ایک 14 سالہ بچے کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد زندہ دفن کرنے کا دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔
متاثرہ بچے غلام رسول ولد مظہر کے اہل خانہ کے مطابق بچہ گزشتہ روز سے لاپتہ تھا۔ مقامی افراد نے کھیتوں سے بچے کے رونے کی آوازیں سنی تو فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ موقع پر پہنچنے والی پولیس اور مقامی لوگوں نے زمین کھود کر بچے کو بحفاظت نکال لیا۔ اس وقت بچے کا جسم مٹی میں دبا ہوا تھا جبکہ اس کا چہرہ اور ٹانگیں باہر تھیں۔

ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مرکزی ملزم قمر نے مبینہ طور پر 20 روز قبل بھی غلام رسول کے ساتھ بدفعلی کی تھی۔
بچے کی جانب سے اس واقعے کی شکایت کرنے پر ملزمان نے اسے انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے کھیتوں میں گڑھا کھود کر زندہ دفن کرنے کی کوشش کی۔ڈی پی او سرگودھا نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی جلد گرفتاری کا حکم دیا تھا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی تھانہ جھال چکیاں پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق اب تک مرکزی ملزم قمر سمیت متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ دیگر نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔


بچے کو فوری طبی امداد کے لیے ڈسٹرکٹ ہسپتال سرگودھا منتقل کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق بچے کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔
متاثرہ بچے کے والد کا کہنا ہے کہ بااثر افراد کی جانب سے انہیں ملزمان کے ساتھ صلح کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور کسی کو بھی انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے