لاہور :(پنجاب پوسٹ)ہائیکورٹ نے محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ نجی مجالس کے انعقاد کے لیے کسی قسم کی سرکاری اجازت یا لائسنس حاصل کرنا ضروری نہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئین پاکستان ہر شہری کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، لہٰذا نجی مذہبی اجتماعات پر غیر ضروری پابندیاں عائد نہیں کی جا سکتیں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عوامی مقامات پر نکالے جانے والے جلوسوں کی اجازت دینے کا اختیار صرف ضلعی پولیس اور متعلقہ ڈپٹی کمشنر کے پاس ہوگا، جبکہ ہوم ڈیپارٹمنٹ کو جلوسوں کی اجازت جاری کرنے کا مجاز ادارہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب کے کن علاقوں میں موبائل سروس بند ہے اور بندش کب تک رہے گی ؟
لاہور ہائیکورٹ نے ہدایت کی کہ محرم الحرام کے جلوسوں کے لیے لائسنسنگ، سکیورٹی اور انتظامی امور کا عمل محرم سے کم از کم ایک ماہ قبل شروع کیا جائے تاکہ تمام انتظامات بروقت مکمل کیے جا سکیں اور کسی قسم کی بدانتظامی سے بچا جا سکے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے آئینی حقِ مذہبی آزادی کے استعمال میں سہولت فراہم کرے اور غیر ضروری رکاوٹیں پیدا نہ کرے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ جلوسوں پر پابندی یا ان کے راستوں میں تبدیلی صرف اسی صورت ممکن ہے جب حقیقی اور قابلِ اعتماد امن و امان کے خدشات موجود ہوں، محض خدشات یا عمومی وجوہات کی بنیاد پر مذہبی سرگرمیوں کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو محرم الحرام کے انتظامات، مذہبی آزادی اور انتظامی اختیارات کے تعین کے حوالے سے ایک اہم عدالتی رہنمائی قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت متعلقہ اداروں کو آئینی تقاضوں کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔








