پاکپتن دربار میں بھگدڑ کیوں مچی؟ کتنے افراد زخمی ہوئے؟ پنجاب پوسٹ حقائق سامنے لے آیا؟

پاکپتن(احسن بلوچ) بابا فرید کے سالانہ عرس کی تقاریب مذہبی عقیدت و احترام سے منائی جارہی ہیں۔ تاہم اتوار کے روز دربار میں بھگدڑ مچنے سے کئی افراد زخمی ہوگئے، تاہم سوشل میڈیا پر بعض حلقوں کی جانب سے اس حادثے میں چند افراد کے مارے جانے کا پروپیگنڈہ بھی کیا گیا۔
بھگدڑ مچنے سے کتنا نقصان ہوا؟
ریسکیو ذرائع کے مطابق بھگدڑ سے 89 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 63 افراد کو موقع پر ابتدائی طبی امداد دیکر روانہ کردیا گیا۔ دیگر 26 افراد کو ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کیا گیا، جن میں سے 21 افراد کی مرہم پٹی کی گئی۔ زخمیوں میں پانچ افراد جوکہ بلڈ پریشر کے مریض ہیں۔ تاحال ہسپتال میں موجود ہیں اور ان کا علاج معالجہ جاری ہے۔
سجادہ نشین دربار فرید کوٹ مٹھن خواجہ محمد عامر فرید کوریجہ سائیں کا الزام

خواجہ عامر فرید نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ پر الزام عائد کیا کہ عرسِ کے موقع پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی ناقص حکمت عملی اور بدترین انتظامی ناکامی کے باعث زائرین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔سڑکوں اور گلیوں میں غیر ضروری رکاوٹیں کھڑی کر کے عوام اور زائرین کی نقل و حرکت کو بری طرح متاثر کیا گیا جس کے نتائج انتہائی خطرناک ثابت ہوئے۔ صورتحال اس حد تک بگڑ گئی کہ بھگدڑ اور افراتفری کے مناظر سامنے آئے اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ یہ ایک ایسا سانحہ ہے جسے بہتر منصوبہ بندی اور ذمہ دارانہ انتظامات کے ذریعے روکا جا سکتا تھا۔ہم واضح طور پر سمجھتے ہیں کہ اس افسوس ناک صورتحال کی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ خصوصاً ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے لاکھوں زائرین کے اجتماع کے باوجود مؤثر انتظامات کو یقینی نہیں بنایا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں اور غفلت و نااہلی کے مرتکب افسران کے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے
پولیس کا کیا مئوقف ہے؟
پنجاب پوسٹ نے بھگدڑ کے حوالے سے ضلعی پولیس کے تین اعلیٰ عہدیداران سے رابطہ کیا۔ حکام نے الزامات کی تو سختی سے تردید کی ہے تاہم بار بار اصرار کے باوجود زبانی یا تحریری مئوقف نہیں دیا۔
عینی شاہدین اور زائرین نے کیا دیکھا؟
پنجاب پوسٹ نے زائرین اور عینی شاہدین سے جب حادثے کی تفصیلات جاننے کیلئے گفتگو کی تو انکا کہنا تھا کہ دربار پر آنے کے لیے لوگوں کو 2 کلومیٹر کے فاصلے سے پیدل چل کر آنا پڑتا ہے ۔ دربار تک پہنچے کے لیے مین بازار میں۔ دروازے بنائے گئے ہیں ایک دروازہ شروع میں ہے اور دوسرا دروازہ دربار کے بالکل سامنے ہے ۔دربار کے سامنے والا دروازہ چھوٹا ہے اور زائرین کے علاوہ مقامی بازار کے دکانداروں اور خریداروں کو بھی اسی رستے سے گزرنا پڑتا تھا۔ پولیس نے عوام کے رش پر قابو پانے کیلئے لوگوں کو تیزی سے گزارا جس پر بھگدڑ مچی اور حادثہ رونما ہو گیا

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے