قصور (پنجاب پوسٹ) قصور میونسپل کارپوریشن کی ڈیتھ اینڈ برتھ سرٹیفکیٹ برانچ کی مبینہ غفلت کے باعث ایک زندہ خاتون، رضیہ بی بی کو سرکاری ریکارڈ میں مردہ قرار دے دیا گیا۔
متاثرہ خاتون اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دینے کے لیے مختلف دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں، تاہم تاحال غلط اندراج کو درست نہیں کیا جا سکا۔
یہ بھی پڑھیں: قصور: نجی اسپتال میں مبینہ غیر قانونی گردہ پیوندکاری کا بھانڈا پھوٹ گیا
واقعے کے بعد شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور سوالات اٹھ رہے ہیں کہ اگر ایک زندہ شخص کو مردہ قرار دیا جا سکتا ہے تو عام شہریوں کے ریکارڈ کی حفاظت کس حد تک یقینی ہے؟
عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے، ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنے اور متاثرہ خاتون کا ریکارڈ فوری طور پر درست کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔











