بابا فریدؒ عرس: سیف سٹی پاکپتن کے 300+ کیمروں، ڈرونز اور اے آئی نگرانی کے فول پروف انتظامات

لاہور: (پنجاب پوسٹ)حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکرؒ کے 784ویں سالانہ عرس کے موقع پر پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے زائرین کی سکیورٹی اور سہولت کے لیے پاکپتن میں جدید ٹیکنالوجی پر مبنی فول پروف انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ ترجمان پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے مطابق سمارٹ سیف سٹی پاکپتن کے تحت دربار بابا فریدؒ، اس کے اطراف اور مرکزی شاہراہوں کی نگرانی 300 سے زائد جدید کیمروں کے ذریعے چوبیس گھنٹے جاری ہے۔سیف سٹی حکام کے مطابق عرس کے دوران زائرین کے بڑے اجتماعات، داخلی و خارجی راستوں اور حساس مقامات کی مانیٹرنگ کے لیے پورٹیبل 4G کیمرے بھی نصب کیے گئے ہیں، جبکہ دربار شریف میں ایک خصوصی سیف سٹی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے جہاں سے تمام سرگرمیوں کی ریئل ٹائم نگرانی اور مختلف اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔


ترجمان نے بتایا کہ سیف سٹی ڈرونز کے ذریعے فضائی نگرانی بھی جاری ہے تاکہ زائرین کی نقل و حرکت، ہجوم کی صورتحال اور مجموعی سکیورٹی انتظامات پر مسلسل نظر رکھی جا سکے۔ خصوصی کنٹرول روم میں پنجاب پولیس، سیف سٹی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے مشترکہ طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔زائرین کو فوری مدد اور بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے کیو آر پینک بٹن، فری وائی فائی اور ایمرجنسی سروسز بھی فعال کر دی گئی ہیں۔ سیف سٹی حکام کے مطابق زائرین کی آمد، قیام اور روانگی کے تمام مراحل کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ترجمان سیف سٹی کا کہنا ہے کہ جدید کیمروں، فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی اور اے آئی بیسڈ سرویلنس سسٹمز کے ذریعے مشکوک سرگرمیوں اور جرائم پیشہ عناصر پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ زائرین کی رہنمائی، ٹریفک آگاہی اور سکیورٹی ہدایات کے لیے مختلف مقامات پر آگاہی بینرز بھی نصب کیے گئے ہیں۔


پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے شہریوں اور زائرین سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال یا مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر پنجاب 15 پر اطلاع دیں۔ حکام کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے عرس کی تقریبات کے پرامن انعقاد اور لاکھوں زائرین کے تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے